ناسا کی پیشکش: عام افراد بھی چاند کے تاریخی سفر کا حصہ بن سکتے ہیں، جانیے کیسے؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی خلائی ادارے ناسا نے دنیا بھر کے خلائی شوقین افراد کے لیے ایک منفرد موقع فراہم کرتے ہوئے چاند پر اپنا نام بھجوانے کے لیے رجسٹریشن کا آغاز کر دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ناسا کا کہنا ہے کہ جو افراد اس تاریخی مشن کا حصہ بننا چاہتے ہیں وہ اپنا نام ادارے کو فراہم کر سکتے ہیں، جسے ایک خصوصی ڈیجیٹل اسٹوریج ڈیوائس میں محفوظ کر کے چاند کی جانب بھیجا جائے گا۔
ناسا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں عوام کو دعوت دی کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنا نام خلائی تاریخ کا حصہ بنائیں۔ ادارے کے مطابق یہ نام ایک ایس ڈی کارڈ میں محفوظ کیے جائیں گے، جسے آرٹیمس دوم مشن کے دوران خلائی جہاز اورین کے ساتھ روانہ کیا جائے گا، جو چاند کے گرد گردش کرے گا۔
آرٹیمس دوم مشن کے لیے راکٹ کی تیاری لانچ پیڈ پر جاری ہے اور اس مشن کی روانگی فروری میں متوقع ہے۔ 10 روزہ اس خلائی سفر میں ناسا کے 4 تربیت یافتہ خلا نورد چاند کے گرد چکر لگانے کے بعد زمین پر واپس آئیں گے، جو انسان کے چاند کی جانب دوبارہ سفر کی ایک اہم کڑی سمجھی جا رہی ہے۔
یہ مشن دراصل نصف صدی سے زائد عرصے بعد انسان کو ایک مرتبہ پھر چاند تک لے جانے کی ناسا کی وسیع تر منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ اگرچہ اس مرحلے میں چاند پر لینڈنگ شامل نہیں، تاہم یہ مستقبل میں انسان کو چاند کی سطح پر اتارنے کی تیاریوں کا اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
ناسا کا کہنا ہے کہ عوام کے ناموں کو مشن کا حصہ بنانے کا مقصد خلائی تحقیق سے لوگوں کی وابستگی بڑھانا اور آئندہ نسلوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی جانب راغب کرنا ہے تاکہ خلا کی تلاش صرف اداروں تک محدود نہ رہے بلکہ عام انسان بھی خود کو اس تاریخی سفر سے جڑا ہوا محسوس کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا حصہ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔