سندھ کے ضلع جیکب آباد میں پولیس افسر اور اہلکاروں کی لڑکی کیساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی  تصدیق ہوگئی۔

رپورٹ کے مطابق آسیہ کھوسو ریپ کیس کی انکوائری رپورٹ میں پولیس اہلکاروں کی لڑکی کیساتھ اجتماعی زیادتی کی تصدیق کی گئی ہے۔

جرم کی تصدیق کے بعد تمام اہلکاروں کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ایس ایس پی جیکب آباد محمد کلیم ملک نے تصدیق کی ہے کہ سندھ کے شہر جیکب آباد میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی ثابت ہونے کے بعد 6 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

متاثرہ لڑکی آسیہ کی دادی نے دو روز قبل میڈیا پر بیان دیا تھا کہ ایس ایچ او مقصود سنجرانی، ہیڈ محرر یاسین نوناری سمیت 6 پولیس اہلکاروں نے 7 دن تک میری پوتی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔

وزیرداخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیا اور ایس ایس پی سے اس واقعے کی تفصیلات طلب کی تھیں۔

ایس ایس پی جیکب آباد کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں 6 پولیس اہلکاروں کے واقعے میں ملوث ہونے کی تصدیق ہوگئی

ایس ایس پی جیکب آباد نے کہا کہ  تمام ملوث اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

ایف آئی آر جیکب آباد کے ایس ایس پی محمد کلیم ملک کی جانب سے متاثرہ لڑکی کے ویڈیو بیان میں لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے بعد درج کی گئی۔

ابتدائی طبی معائنے کی رپورٹ میں بھی تصدیق ہوئی ہے کہ متاثرہ لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

متاثرہ لڑکی کو اس کی بہن اور دادی کے ساتھ، پولیس نے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں اٹھایا تھا، خواتین وہ کئی دنوں تک RD-52 پولیس اسٹیشن، تعلقہ تھول میں بند رہیں۔

ایس ایس پی نے  ویڈیو بیان میں کہا کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے ریپ کے الزامات کے حوالے سے انکوائری کی اور پتا چلا کہ 6 پولیس اہلکاروں نے لڑکی کو حراست میں لے کر ریپ کیا۔

متاثرہ لڑکی کو تھل تعلقہ اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کیا اور ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے جمع کیے۔

ایس ایس پی نے چھ پولیس اہلکاروں کو معطل کر کے ان کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔

یہ مقدمہ متاثرہ لڑکی کی دادی کی شکایت پر تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا۔

اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سید شرف الدین شاہ نے زیر حراست لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تفتیشی افسر (IO) اور تمام ملوث فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پولیس اہلکاروں اہلکاروں کو متاثرہ لڑکی ایس ایس پی جیکب آباد

پڑھیں:

تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی

 ویب ڈیسک:کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی، ریسکیو نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا۔

  چیئرمین ریلوے نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی جو 7 روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔

 ترجمان ریلوے کے مطابق کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں خانیوال کے قریب اچانک آگ لگ گئی جس پر پاور وین کو ٹرین سے الگ کردیا گیا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 آگ نے دیکھتے دیکھتے پوری پاور وین کو لپیٹ میں لے لیا، اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا جس کے بعد ٹرین کو راولپنڈی روانہ کردیا گیا۔

 چیئرمین ریلویز نے پاور وین میں آگ لگنے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو سات روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق