data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 603 ملین ڈالر مالیت کے 3 اہم قرض معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں، جنہیں ملک کی معاشی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور سماجی شعبے میں استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ معاہدے وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ اور اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ڈاکٹر رامی احمد کے درمیان ملاقات کے بعد طے پائے۔

دستخط کی تقریب میں اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ڈاکٹر رامی احمد اور اقتصادی امور ڈویژن کے سیکرٹری محمد حمیر کریم نے معاہدوں پر دستخط کیے جب کہ وفاقی وزیر اقتصادی امور، وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

حکام کے مطابق یہ معاہدے پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنائیں گے۔

معاہدوں کے تحت اسلامی ترقیاتی بینک ایم-6 سکھر تا حیدرآباد موٹروے منصوبے کے لیے 475 ملین ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرے گا۔ یہ موٹروے مجوزہ پشاور تا کراچی موٹروے کا ایک اہم حصہ ہے، جس سے نہ صرف ملک کے اندر تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ علاقائی رابطوں کو بھی فروغ ملے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور سفر کا دورانیہ کم ہونے سے معیشت کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

اس کے علاوہ پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان انتہائی غریب اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو غربت سے نکالنے کے لیے ایک جامع پروگرام شروع کرنے کا بھی معاہدہ کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد مستحق خاندانوں کو صرف نقد امداد پر انحصار سے نکال کر پائیدار روزگار، معاشی خودمختاری اور مضبوط معاشی بنیاد فراہم کرنا ہے۔

اس منصوبے کی مجموعی لاگت 134.

2 ملین ڈالر ہے، جس میں سے 118.4 ملین ڈالر اسلامی ترقیاتی بینک فراہم کرے گا۔

یہ پروگرام ملک کے 25 اضلاع میں نافذ کیا جائے گا، جس سے ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد گھرانے مستفید ہوں گے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف غربت میں کمی آئے گی بلکہ سماجی تحفظ کے نظام کو بھی تقویت ملے گی۔

مزید برآں آزاد جموں و کشمیر میں اسکول سے باہر بچوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک 10 ملین ڈالر فراہم کرے گا۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً 60 ہزار بچوں کو دوبارہ اسکولوں میں داخل کیا جائے گا جب کہ 4 ہزار اساتذہ کو تربیت دی جائے گی، جس سے تعلیمی معیار بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ڈاکٹر رامی احمد نے اس موقع پر کہا کہ ادارہ پاکستان کے ساتھ باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ وزیر اقتصادی امور نے پاکستان کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک کی مسلسل حمایت اور اعتماد پر اظہارِ تشکر کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان ملین ڈالر کے لیے

پڑھیں:

جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل اور پارٹی کی تنظیمی سیاست کی اہم ترین شخصیات میں شمار ہونے والے امیرالعظیم کو جمعرات کے روز لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے

ان کی نماز جنازہ منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے پڑھائی، جس میں جماعت اسلامی کی مرکزی و صوبائی قیادت، کارکنوں، مختلف سیاسی و مذہبی شخصیات اور بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

نماز جنازہ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے امیرالعظیم کی جماعت اور ملک کے لیے خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک بااصول، مدبر اور مخلص رہنما قرار دیا۔

طلبہ سیاست سے قومی قیادت تک کا سفر

3 اکتوبر 1958 کو لاہور کے علاقے اسلام پورہ (کرشن نگر) میں پیدا ہونے والے امیرالعظیم کا خاندان 1947 میں مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے پاکستان آیا تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی، اسلامیہ کالج سول لائنز سے گریجویشن کیا اور بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم بی اے) کی ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے سنہ 1975 میں زمانۂ طالب علمی کے دوران سیاست اور جماعت اسلامی سے وابستگی اختیار کی جبکہ سنہ 1977 میں باقاعدہ جماعت اسلامی کے رکن بنے۔

مزید پڑھیے: خصوصی دعوت پر حافظ نعیم الرحمان کی وزیراعظم ملائیشیا انور ابراہیم سے ملاقات

ان کا سیاسی سفر جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے شروع ہوا جہاں وہ پہلے لاہور کے ناظم منتخب ہوئے اور بعد میں ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے منصب تک پہنچے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر بھی رہے اور سنہ 1980 کی دہائی میں طلبہ حقوق اور نمائندگی کی مختلف تحریکوں میں سرگرم کردار ادا کیا۔

جیل میں بھی تنظیمی ذمہ داریاں نبھاتے رہے

سنہ1983  میں وہ جماعت اسلامی پنجاب کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔ فوجی دور میں سیاسی سرگرمیوں کے باعث انہیں قید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

لاہور-امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیرالعظیم رحمۃ اللہ علیہ کے شرکائے اجتماع جنازہ سے خطاب کر رہے ہیں۔
امیر جماعت نے کہا کہ امیرالعظیم نے تمام زندگی اقامت دین کی جدوجہد کی ، وہ بہترین اخلاق کے مالک اور انسانوں کے ہمدرد تھے، وہ… pic.twitter.com/wjshlf58z7

— Jamaat e Islami Pakistan (@JIPOfficial) July 23, 2026

جیل کے دوران بھی انہوں نے جماعتی سرگرمیاں جاری رکھیں اور 2 مرتبہ جماعت اسلامی کی جیل شاخ کے امیر منتخب ہوئے۔ اکتوبر 1988 میں رہائی کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی میں مختلف اہم تنظیمی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

جماعت اسلامی میں اہم مناصب

امیرالعظیم نے مختلف ادوار میں جماعت اسلامی لاہور کے امیر، مرکزی سیکریٹری اطلاعات و نشریات، لاہور کے سیکریٹری جنرل اور بعد ازاں جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

اپریل 2019 میں انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا جہاں وہ اپنی وفات تک اس عہدے پر فائز رہے۔

تنظیمی سیاست کے معمار

اگرچہ امیرالعظیم نے انتخابی سیاست میں نمایاں کردار ادا کرنے کے بجائے تنظیمی میدان کو ترجیح دی تاہم انہیں جماعت اسلامی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے والی اہم شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔

انہوں نے پارٹی میں ادارہ جاتی نظم، نظریاتی تربیت اور تنظیمی نظم و ضبط کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا اور کئی نسلوں کے کارکنوں اور رہنماؤں کی تربیت کی۔

فکری اور صحافتی خدمات

تنظیمی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ امیرالعظیم جماعت اسلامی کے فکری اور ابلاغی شعبوں سے بھی وابستہ رہے۔ وہ جماعت کے جریدے چشم نو کے مدیر رہے جبکہ فیوچر وژن کمیونیکیشنز کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن کا اظہار افسوس

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے امیرالعظیم کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک بااصول، صاحب بصیرت اور مخلص رہنما تھے جنہوں نے طویل علالت کے باوجود جماعت کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔

مزید پڑھیں: طارق رحمان کی امیر جماعت اسلامی سےملاقات، مثبت سیاسی تعلقات کو فروغ دینے پر زور

جماعت اسلامی نے اپنے بیان میں امیرالعظیم کو سادگی، دیانت داری، فکری گہرائی اور کارکنوں سے قریبی تعلق رکھنے والا رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات جماعت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امیرالعظیم انتقال امیرالعظیم کی تدفین جماعت اسلامی سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی امیرالعظیم

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر ‘اسکائی 47 قراقرم ون’ کا افتتاح کر دیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے