ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل کوجعلی خبررساں ادارہ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف اخبار وال اسٹریٹ جرنل کو جعلی خبریں پھیلانے والا ادارہ قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل کا اظہار کردیا ۔ انہوں نے امریکی ملٹی نیشنل بینکنگ کمپنی جے پی مورگن چیز کے خلاف آئندہ 2ہفتوں میں قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دے دیا ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ اخبار نے پہلے صفحے پر ایک مضمون شائع کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے جے پی مورگن چیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیمی ڈیمون کو فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کی پوسٹ کی پیشکش کی تھی، جو کہ سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس خبر میں بغیر کسی تصدیق کے یہ تاثر دیا گیا کہ انہوں نے جیمی ڈیمون کو فیڈرل ریزرو کی سربراہی کی پیشکش کی، حالانکہ یہ حقیقت نہیں۔ امریکی صدر نے واضح کیا کہ یہ رپورٹ من گھڑت اور گمراہ کن ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ادھر جیمی ڈیمون نے اپنے بیان میں کہا کہ مجھے کسی ملازمت کی پیشکش نہیں کی گئی۔ادھر جے پی مورگن کی ترجمان ٹرش ویکسلر نے کہا تھا کہ انہیں وال اسٹریٹ جرنل کی خبر شائع ہونے سے پہلے اس کی تصحیح میں مزید مستعد ہونا چاہیے تھا۔ اسی روز صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ آئندہ 2ہفتوں میں جے پی مورگن کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق 6 جنوری 2021 کو کیپٹل ہل پر ان کے حامیوں کے حملے کے بعد بینک نے مبینہ طور پر انہیں ڈی بینک کردیا تھا، یعنی ان کی بینکاری سہولیات ختم کردی گئی تھیں۔ اس حوالے سے جے پی مورگن کی ترجمان ٹرش ویکسلر کا کہنا تھا کہ بینک مخصوص صارفین پر تبصرہ نہیں کرتا، تاہم جے پی مورگن کا موقف ہے کہ کسی بھی شخص کا اکاؤنٹ اس کے سیاسی یا مذہبی عقائد کی بنیاد پر بند نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بینک اس بات کو سراہتا ہے کہ موجودہ انتظامیہ سیاسی بنیادوں پر ڈی بینکنگ کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وال اسٹریٹ جرنل جے پی مورگن تھا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔