کرپٹو کرائم: پرانے طریقوں سے 700 ملین ڈالر کیسے چرائے گئے
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
کریپٹو کرنسی کے سلسلے میں رقم چوری ہونے کا درد کچھ الگ ہی ہوتا ہے کیونکہ تمام لین دین ڈیجیٹل لیجر یا بلاک چین پر ریکارڈ ہوتا ہے۔ یعنی اگر کوئی آپ کا پیسہ لے کر اپنی والٹ میں ڈال دے تب بھی یہ آن لائن دکھائی دیتا ہے لیکن واپس لینا ناممکن ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرپٹو مائننگ: پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے سنگ میل یا خطرناک تجربہ؟
بی بی سی کے مطابق برطانیہ کی رہائشی ہیلن، جنہیں تقریباً 315,000 ڈالر کا نقصان ہوا، کہتی ہیں آپ اپنے پیسے کو پبلک بلاک چین پر دیکھ سکتے ہیں لیکن واپس کچھ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسے ہے جیسے چور آپ کے قیمتی سامان کو ایک ناقابل عبور کھائی کے پار رکھ دے۔
ہیلن اور رچرڈ کا تجربہہیلی اور ان کے شوہر رچرڈ نے 7 سال تک کارڈینو کرپٹو کو جمع کیا۔ وہ ڈیجیٹل اثاثے میں سرمایہ کاری کے امکانات پسند کرتے تھے لیکن ایک دن ہیکرز ان کے کلاؤڈ اسٹوریج اکاؤنٹ تک پہنچ گئے جہاں کرپٹو والٹس کی معلومات محفوظ تھیں۔
فروری 2024 میں ایک چھوٹا سا ٹیسٹ ٹرانسفر کرنے کے بعد چوروں نے ان کے تمام کوائنز اپنی والٹس میں منتقل کر دیے۔ اس کے بعد وہ کئی ماہ تک اپنی رقم کو مختلف والٹس میں منتقل ہوتے دیکھتے رہے لیکن کچھ نہیں کر سکے۔
مزید پڑھیے: کراچی سے چوری شدہ گاڑیوں کی کوئٹہ میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے خرید و فروخت کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب
کرپٹو کرائم میں اضافہسنہ2025 میں کرپٹو چوری کی مجموعی رقم تقریباً 3.
انفرادی سرمایہ کاروں پر حملوں سے تقریباً 713 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔
سنہ 2022 میں 40,000 حملے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 80,000 تک پہنچ گئی۔
زیادہ تر رقم کرپٹو کمپنیز پر اثر نہیں کرتی کیونکہ ان کے پاس بڑے فنڈز ہوتے ہیں لیکن انفرادی سرمایہ کاروں کے لیے خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ہیکرز اور پرانے حربےکچھ گروپس نے چوری شدہ ڈیٹا بیس استعمال کر کے سرمایہ دار افراد کو ہدف بنایا۔
مزید پڑھیں: شمالی کوریائی ہیکر اربوں ڈالرز مالیت کے کرپٹو اثاثے لے اُڑے
کچھ نے گھریلو حملے کیے جہاں متاثرین کو خطرناک آلات سے دھمکایا گیا۔
اسپین، فرانس اور برطانیہ میں کئی ہنگامی واقعات رپورٹ ہوئے۔
خود کی حفاظت اور ’بینک بننا‘ماہرین جیسے میتھیو جونز کہتے ہیں کہ اب سرمایہ کار ’خود اپنا بینک‘ بن کر اپنے والٹس رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے کیوں کہ اگر آپ کی کرپٹو چوری ہو جائے تو کسی ادارے سے شکایت کرنا ممکن نہیں۔
اپنا بینک بننے سے کیا مراد ہے؟کرپٹو کی دنیا میں خود اپنا بینک بننے کا مطلب ہے کہ آپ اپنے والٹ کے مالک خود ہوتے ہیں اور آپ کے پاس اپنے کرپٹو اثاثوں پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے۔ کوئی بینک یا ادارہ درمیان میں نہیں ہوتا اس لیے آپ کسی کے اجازت کے بغیر کرنسی بھیج یا وصول کر سکتے ہیں۔
تاہم اس آزادی کے ساتھ خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اگر آپ کا والٹ ہیک ہو جائے یا ڈیجیٹل کیز چوری ہو جائیں تو کوئی ادارہ آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔ یعنی پیسہ چوری ہونے کی صورت میں واپس لینا ناممکن ہے اور ساری ذمہ داری صرف آپ پر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرپٹو میں خود کنٹرول کے فوائد کے ساتھ ساتھ احتیاط اور مضبوط حفاظتی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔
ہیلی اور رچرڈ نے تمام کوائنز کھو دیے جن میں زیادہ تر رقم رچرڈ کی والدہ کے گھر کی فروخت سے آئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: کرپٹو کرنسی کو دیگر کرنسیز میں کیسے منتقل کیا جا سکتا ہے؟
انہوں نے اپنے آلات اور گاڑی بیچ دی اور وقتی طور پر بے گھر بھی ہوئے۔ پھر بھی وہ مکمل طور پر کرپٹو چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور بچت کے بعد دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
؎ٹیسلا،ایلون مسک ،کرپٹو کرنسی اپنا بینک خود کرپٹو کرائم میں اضافہ کرپٹو کرنسی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپنا بینک خود کرپٹو کرائم میں اضافہ کرپٹو کرنسی کرپٹو کرنسی اپنا بینک ہوتا ہے نہیں کر
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔