راجہ ناصر عباس سینیٹ میں قائد حزب اختلاف مقرر، نوٹی فیکشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سینیٹ سیکیٹریٹ نے آج باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں سینٹر راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے طور پر فوری طور پر تعینات کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
سینیٹ کے قواعد و ضوابط کے تحت سینیٹ کے چیئرمین نے سینٹر راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے طور پر مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ یہ فیصلہ قواعد کے تحت فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
https://x.
سینیٹ سیکیٹری حفیظ اللہ شیخ نے نوٹیفیکشن کو جاری کرتے ہوئے تمام متعلقہ حکام، وفاقی اور صوبائی اداروں، وزارتوں، میڈیا اور سینیٹ کے اراکین کو آگاہ کیا۔ اس تعیناتی کے بعد راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن کے رہنما کے طور پر تمام قانونی اور رسمی اختیارات حاصل ہوں گے۔
نوٹیفیکشن میں بتایا گیا ہے کہ سینیٹ کے تمام اراکین، صدر، وزیر اعظم، چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین، لیڈر آف دی ہاؤس اور دیگر متعلقہ حکام کو اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی کارروائیوں میں اس کا اطلاق کریں۔
یہ تعیناتی سینیٹ میں اپوزیشن کے مضبوط کردار اور پارلیمانی عمل کو مؤثر بنانے کے لیے کی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔