اختلافِ رائے کے باوجود پارلیمانی روایات اور باہمی احترام کو مقدم رکھا جائے، رانا ثنا اللہ کا سینیٹ میں خطاب
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سینیٹ کے اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے خطاب کرتے ہوئے ایوان کے اندر مثبت پارلیمانی ماحول کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور انتخابی عمل، ووٹ کے احترام اور ماضی کے سیاسی تجربات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔
رانا ثنا اللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج چیئرمین سینیٹ کے دفتر میں ملاقاتوں اور مشاورت کے دوران جو خوشگوار اور سنجیدہ ماحول قائم ہوا، اس کا تسلسل ایوان کے اندر بھی برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اختلافِ رائے کے باوجود پارلیمانی روایات اور باہمی احترام کو مقدم رکھا جائے تاکہ ایوان کی کارروائی مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ ووٹ کے احترام اور عوامی فیصلوں کو مؤثر بنانے کا معاملہ انتہائی اہم ہے، کیونکہ اگر عوام کے فیصلے کو تسلیم نہ کیا جائے تو جمہوری عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس موقع پر رانا ثنا اللہ نے اپوزیشن کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی نتائج پر اعتراض اور ہار تسلیم نہ کرنے کا طرزِ عمل کوئی نئی بات نہیں۔
رانا ثنا اللہ نے یاد دلایا کہ 2018 کے انتخابات میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی تھی، جب ان کی جماعت اپوزیشن میں تھی اور انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 25 جولائی 2018 کے انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب میں سیاسی جوڑ توڑ، نئی صف بندیاں اور مخصوص سیاسی گروہوں کی تشکیل سب کے سامنے تھی، جس کا مقصد انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دور میں کچھ عناصر کو اکٹھا کر کے اسلام آباد لایا گیا اور انہیں سیاسی شناخت دی گئی، جو دراصل انتخابی عمل میں مداخلت کی ایک مثال تھی۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ماضی کے ان تجربات سے سیکھتے ہوئے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جمہوری اقدار، ووٹ کے احترام اور پارلیمان کے وقار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ نظام مضبوط ہو اور عوام کا اعتماد بحال رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔