قانون نافذ کرنا مقدس امانت ہے، مسلح افواج پولیس کے ساتھ کھڑی ہیں:فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز و فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ قانون نافذ کرنا مقدس امانت ہے. مسلح افواج پولیس کے ساتھ کھڑی ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز و فیلڈ مارشل نے نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ کیا، سید عاصم منیر نے پولیس اکیڈمی کے افسران سے بھی ملاقات کی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت داخلہ طلاق چودھری بھی موجود تھے۔فیلڈ مارشل نے پہنچنے پر اکیڈمی کے کمانڈنٹ کی جانب سے گرم جوشی سے استقبال کیا اور پولیس دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔انہوں نے پولیس مارٹرز مونو منٹ پر پھول چڑھائے اور شہدا کیلئے فاتحہ خوانی کی، ان پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا جو امن قائم رکھنے، قانون کی بالادستی یقینی بنانے اور عوام کی حفاظت میں اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں، فیلڈ مارشل نے دہشتگردی، جرائم اور داخلی سلامتی کے چیلنجز کے دوران پولیس کی قربانیوں کو سراہا۔دورے کے دوران فیلڈ مارشل کو اسکول برائے ہائی امپیکٹ ایلیٹ لاء اینفورسمنٹ ڈیولپمنٹ (SHIELD) اور پولیس کی استعداد بڑھانے اور جدید بنانے کے پروگرامز سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے کیڈٹ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ASPs) سے ملاقات کی اور پولیس کو شہریوں کی جان، مال اور عزت کے تحفظ میں پہلی دفاعی لائن قرار دیا۔فیلڈ مارشل نے آئی جی پولیس، ایڈیشنل آئی جی اور دیگر سینئر پولیس افسران سے خطاب میں بین الآرگنائزیشن تعاون، جدید پولیسنگ کے طریقہ کار اور عوام کے اعتماد کو بڑھانے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط، پیشہ ورانہ اور عوام دوست پولیس فورس داخلی سلامتی اور قانون کی بالادستی کیلئے ناگزیر ہے، قانون نافذ کرنا پولیس کا مقدس فریضہ ہے اور مسلح افواج ہمیشہ بہادر اور پرعزت پولیس اہلکاروں کے ساتھ کھڑی رہیں گی۔سینیئر پولیس قیادت نے جدید سلامتی چیلنجز کے مطابق پولیسنگ کے معیار کو مزید مضبوط کرنے، پیشہ ورانہ صلاحیت بڑھانے اور ادارہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :