Islam Times:
2026-06-03@01:13:25 GMT

غزہ بورڈ آف پیس: امریکی سازش

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

غزہ بورڈ آف پیس: امریکی سازش

اسلام ٹائمز: امریکی حکام کی جانب سے غزہ کے لئے پیش کردہ یہ منصوبہ بظاہر تعمیر نو کے مالی پیکج کا وعدہ کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ وابستہ ممکنہ شرائط نہایت تشویشناک ہیں۔ یعنی اس معاہدے میں ی بھی کہا گیا ہے کہ غزہ میں تعمیر نو فلسطینی مزاحمت کی جانب سے جوابی میزائل فائر نہ ہونے کی شرط سے وابستہ ہے۔ یعنی اگر اسرائیل جب چاہے جیسے چاہے معاہدے کی خلاف ورزی کرے اور جیسا کہ جنگ بندی معاہدے کے بعد سے مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے لیکن اس کے جواب میں کوئی کاروائی نہ کی جائے؟ کیا یہ منصفانہ بات ہے۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابومریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان

غزہ بورڈ آف پیس دراصل گذشتہ برس ستمبر میں غزہ جنگ بندی سے متعق معاہدے کا تسلسل ہے۔ وہ جنگ بندی کہ جو آج تک عملی جامہ نہیں پہن پائی اور غاصب صیہونی حکومت اسرائیل مسلسل غزہ پر جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ حالانکہ اس نام نہاد جنگ بندی معاہدے کو ہوئے اب ایک سو سے زائد ایام گزر چکے ہیں لیکن فلسطینیوں کے لئے ایکبھی دن ایسا نہیں گزرا ہے کہ جب سفاک اسرائیلی قابض فوجوں نے ان کے پیاروں کو قتل نہ کیا ہو۔ امریکی صدر نے ستمبر کے مہینہ میں کچھ مسلمان اور مغربی ممالک کو ملا کر غزہ میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور کہا گیا تھا کہ آٹھ مسلمان ممالک اس جنگ بندی کے ضامن ہیں لیکن آج بھی یہ ضامن اسرائیلی جارحیت اور دہشتگردانہ کاروائیوں کے سامنے بے بس نظر آ رہے ہیں۔ ٹرمپ کے بیس نکاتی امن معاہدے کے تحت پہلے مرحلہ میں فلسطینی اور اسرائیلی قیدیوں کا دو طرفہ تبادلہ طے پایا تھا جو انجام دیا گیا اور اب دوسرے مرحلہ کی بات کی گئی تھی کہ جس میں غزہ کی تعمیر نو، انتظامی نگرانی سمیت دیگر امور بھی شامل ہیں۔

غزہ بورڈ آف پیس دراصل جنگ بندی معاہدے کا دوسرا حصہ تصور کیا جا سکتا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی دعویٰ یہ تھا کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے بعد وہاں ایک غیر جانبدار سکیورٹی، انتظامی اور تعمیراتی اتھارٹی قائم کی جائے جو غزہ کے مستقبل کو مستحکم بنا سکے۔ بظاہر یہ منصوبہ امن، تعمیر نو اور معاشی بحالی کا خاکہ پیش کرتا ہے، لیکن فلسطینی حلقوں میں اس منصوبے نے نہ صرف شدید خدشات پیدا کیے بلکہ اسے ایک نئے نوعیت کے نوآبادیاتی کنٹرول (Colonial Management) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ فلسطینی عوام کے یہ خدشات اس لئے بھی درست ہیں کیونکہ اس بورڈ کا چیئر مین خود امریکی صدر ٹرمپ ہے جو کہ اس وقت دنیا بھر میں جنگ وجدال کو ہوا دینے کے ساتھ ساتھ خو مختار ممالک کی حکومتوں کو گرانے اور افرا تفری پھیلانے میں ملوث ہے۔ حالیہ مثالوں میں وینزویلا اور ایران ہیں جن کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کے جارحانہ عزائم پوری دنیا دیکھ چکی ہے۔اسی طرح ٹرمپ نے اس بورڈ میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر کو بھی شامل کیا ہے جس کے ہاتھ ہزاروں عراقی عوام کے خون سے رنگین ہیں۔ٹرمپ کے بدنام زمانہ داماد جیرڈ کوشنر اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ساتھ مغربی ایشیائی ممالک میں امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف بھی اس بورڈ کا حصہ ہیں اور ہندوستانی شہری عالمی بینک کے صدر اجے بنگا کو بھی اس بورڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

فلسطینی عوام کے خدشات اور شکوہ اپنی جگہ درست ہے کہ فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کے لئے غیر فلسطینیوں کو مسلط کیا جا رہاہے۔ غزہ بورڈ آف پیس کے منصوبے میں فلسطینی عوام کو سیاسی فیصلہ سازی کے مرکزی کردار سے باہر رکھا گیا ہے۔ یہ اصولی طور پر کئی بنیادی سوال کھڑے کرتا ہے۔ فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ بیرونی طاقتیں کس اختیار کے تحت کریں؟ مقامی سیاسی قوتیں، منتخب نمائندے اور مزاحمتی دھڑے کہاں جائیں گے؟ کیا غزہ کو ایک بین الاقوامی وارنشپ یا پروٹیکٹوریٹ میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے؟ یہ خدشہ بہت گہرا ہے کہ منصوبہ فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کو کمزور کرنے کی شکل اختیار کرے گا۔ فلسطینیوں کی ایک بڑی اکثریت پہلے ہی سمجھتی ہے کہ عالمی طاقتیں فلسطینی مسئلے کو حقیقی سیاسی حل کے بجائے انتظامی بحران میں تبدیل کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری طرف غاصب صیہونی حکومت اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرکے غزہ کے شہریوں کو وہاں جبری جلا وطن کرنے کا منصوبہ بھی بنا رکھا ہے۔

حقیقت میں اس منصوبے کا ہدف غزہ کو عسکری طور پر توڑنا اور سیاسی طور پر غیر مؤثر رکھنا ہے تاکہ غزہ میں مزاحمت کو ختم کیا جائے اور اسے کمزور کیا جائے تا کہ وہ دوبارہ منظم نہ ہو۔ اسی حوالے سے غزہ بورڈ آف پیس کی عملی شکل میں مسلمان ممالک کی افواج کو عالمی استحکام فورس کے عنوان سے غزہ میں تعینات کرنے کا منصوبہ بھی رکھا گیا ہے۔ غزہ میں امن کے نام پر دراصل فلسطینیوں کے حقوق کی تلفی کی جا رہی ہے اور امریکہ کی کوشش ہے کہ فلسطینیوں کے اسٹریٹیجک وسائل محدود رہیں اور اسرائیل کو کم لاگت سیکورٹی کا فائدہ ملے۔ یعنی یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ حقیقت میں امریکہ کا یہ نام نہاد امن منصوبہ اسرائیل کے دفاع کے لئے بنایا گیا ہے۔ یہ امن کے نام پر سیکورٹی کولونیلزم (Security Colonialism) کی نئی صورت ہے جہاں امن کا مطلب دراصل قابض طاقت کے لیے تسکین اور زیر قبضہ آبادی کے لیے کنٹرول ہوتا ہے۔

امریکی حکام کی جانب سے غزہ کے لئے پیش کردہ یہ منصوبہ بظاہر تعمیر نو کے مالی پیکج کا وعدہ کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ وابستہ ممکنہ شرائط نہایت تشویشناک ہیں۔ یعنی اس معاہدے میں ی بھی کہا گیا ہے کہ غزہ میں تعمیر نو فلسطینی مزاحمت کی جانب سے جوابی میزائل فائر نہ ہونے کی شرط سے وابستہ ہے۔ یعنی اگر اسرائیل جب چاہے جیسے چاہے معاہدے کی خلاف ورزی کرے اور جیسا کہ جنگ بندی معاہدے کے بعد سے مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے لیکن اس کے جواب میں کوئی کاروائی نہ کی جائے؟ کیا یہ منصفانہ بات ہے؟ یہ واضح طور پر قاتلوں کو حمایت فراہم کرنے کا معاہدہ بنایا گیا ہے۔ اس معاہدے میں غزہ کی تعمیر نو کو بھی اس بورڈ کے مرہون منت کر دیا گیا ہے کہ جہاں چاہیں گے وہاں تعمیر نو کی جائے گی یعنی غزہ سے باہر کے لوگ غزہ کے مقامی لوگوں کے لئے طے کریں گے کہ کیا اچھا ہے اور کیا اچھا نہیں ہے۔ یہ کھلم کھلا نا انصافی اور غنڈہ گردی پر مبنی معاہدہ تشکیل دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا یہ وہی ماڈل ہے جو پہلے عراق، لیبیا، بوسنیا جیسے کیسز میں استعمال ہو چکا ہے جہاں پوسٹ وار اکانومی نے عوام کو مزید انحصار کی طرف دھکیلا۔ غزہ کو بھی مزید کمزور کرنے اور امریکی بالادستی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے لئے غزہ بورڈ آف پیش تشکیل دیا گیا ہے۔

غزہ بورڈ آف پیس کو فلسطین کی تحریکِ مزاحمت کے خلاف ایک نرم متبادل جنگ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ فلسطینی مزاحمتی تحریکوں نے اس معاہدے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور غلط اقدامات کو قبول نہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ حماس نے واضح موقف اپناتے ہوئے غزہ میں ایسے کسی بھی بندوبست کو ماننے سے انکار کیا ہے جس کی کمانڈ غیر ملکیوں کے پاس ہو ۔فلسطین کے باشندے بھی کسی ایسی حکومت کو ماننے سے انکاری ہیں جس میں تمام باشندے بیرونی ہوں۔امریکہ اور اسرائیل جو غزہ اور اس کی مزاحمت کو عسکری طور پر شکست دینے میں ناکام رہے ہیں تو اب امن کے نام پر فلسطینی عوام کو دھوکہ دینے کی سازش کی جا رہی ہے۔ یعنی غزہ کے فلسطینی باشندوں کو سیاسی و انتظامی طور پر غیر مؤثر بنا کر فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرنا اور اس طرح کے متعدد مکروہ عزائم اس منصوبہ کا حصہ ہیں۔ فلسطین میں مزاحمت محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک تاریخی اور قومی تصور ہے جو 1948ء کے بعدکیمپوں کے اندر جلاوطنی میں اور فلسطین کے اندرونی معاشرتی ڈھانچے میںپختہ ہو چکا ہے اور آج یہ تصور فلسطین کے ہر بچہ کے دل و دماغ میں موجو دہے، امریکہ اس تصور اور نظریہ کو کبھی بھی ختم کرنے کی طاقت و قدرت نہیں رکھتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ فلسطینیوں کا اصل نقطہ نہایت سادہ ہے کہ ہمیں امن نہیں ہمیں آزادی، خودمختاری اور قابض کا خاتمہ چاہیئے۔ اگر امن منصوبہ آزادی کو دبانے کے لیے استعمال کیا جائے تو فلسطینی اسے نو کالونیل آرنجمنٹ کے سوا کچھ نہیں سمجھیں گے۔ یہی امریکی سازش ہے جو اس وقت غزہ میں امن معاہدے کے نام پر رچی جا رہی ہے۔ غزہ بورڈ آف پیس کا منصوبہ بظاہر ایک انتظامی فارمولہ ہے مگر فلسطینی نقطۂ نظر سے یہ خودمختاری کی نفی ہے، یہ منصوبہ فلسطین کی مزاحمت کی تذلیل، فلسطینی وحدت کی تقسیم، اسرائیلی مفادات کا تحفظ اور نوآبادیاتی کنٹرول کا نرم ورژن سمجھا جاتا ہے۔ فلسطینی مسئلے کا اصل حل یہ ہے کہ امن قابض کے لیے نہیں محکوم کے لیے محسوس ہو اور یہ ممکن تب ہی ہے جب فلسطینی عوام اپنے مستقبل کے خود مالک ہوں۔ یعنی فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے اور فلسطین کی قسمت کا ہر فیصلہ فلسطینیوں کو کرنے دیا جائے نہ کہ دنیا بھر میں جنگ و جدال کرنے والی امریکی حکومت امن کے نام پر فلسطینیوں کا استحصال کرے۔ یہ سازش غزہ اور فلسطین کے عوام کبھی قبول نہیں کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جنگ بندی معاہدے غزہ بورڈ ا ف پیس فلسطینی مزاحمت فلسطینی عوام فلسطینیوں کے امن کے نام پر کی جا رہی ہے لیکن اس کے کہ غزہ میں کی جانب سے فلسطین کے اس معاہدے خلاف ورزی یہ منصوبہ معاہدے کے دیا گیا کرنے کا کے ساتھ کی جائے کرتا ہے غزہ کے کے لئے کو بھی کے لیے ہے اور اور اس لیکن ا گیا ہے کیا جا کیا ہے

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی