سانحہ گل پلازہ کے بعد تجارتی و رہائشی عمارتوں میں فائر سیفٹی سسٹم نصب کروانے کیلیے 3 دن کا الٹی میٹم
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سانحہ گل پلازہ کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے شہر کے تمام تجارتی مراکز میں فائر سسٹم لازمی قرار نوٹس جا ری کردیے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایس بی سی اے کی جانب سے تجارتی مراکز کو نوٹسسز کئے جا رہے ہیں، جس میں تمام تجارتی مراکز کو پابند کیا جائے گا کہ آگ بچھانے کے آلات عمارت میں لازمی ہونا چائیے بصورت دیگر ان تجارتی مراکز کو سیل کردیا جا ئے گا۔
ایس بی سی اے نے کہا ہے کہ رپورٹ پیش کرے کہ ان کے کاروباری مرکز میں فائر سسٹم موجود ہے کہ نہیں اگر کسی تجارتی مرکز میں فائر سسٹم موجود نہیں تو فوری طور پرآگ بچھانے والے آلات نصب کئے جائے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول آتھارٹی نے شہر بھر میں تین روز میں فائر سیفٹی سسٹم نصب کرنے کا الٹی میٹم دے دیا۔
مزید پڑھیںسانحہ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کو صدر پارکنگ پلازہ میں جگہ دی جائے، گورنر سندھ
ایس بی سی اے کی جانب سے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز آف پاکستان آباد کو بھی ایک لیٹر جاری کیا جس میں کہا ہے کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے جو فائر سیفٹی آڈٹ کیا اس پر عملدرآماد کروائیں، جن بلڈر حضرات نے حفاظتی اقدامات نہیں کیے انہیں تین دن کی مہلت دی جائے اور اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔
اس حوالے سے مئیرکراچی نے کہا کہ آج ضلع جنوبی اور شرقی کی 6 مختلف بلڈنگ کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام بلڈنگ مالکان سے درخواست کرتا ہوں کہ فائر سیفٹی کو یقینی بنائیں۔
ایڈینشل ڈائریکٹر جنرل فرحان قیصر نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایس بی سی اے نے شہر کے تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز کو نوٹس جاری کرنا شروع کردئیے، جس میں کہا گیا ہے کہ عمارت میں فائر سسٹم لازمی ہونا چاہیے، اس سلسلے میں تین دن میں آگ بچھانے والے آلات ہرصورت نصب ہونا چاہیے، بصورت دیگر ان تجارتی مراکز کو سیل کردیا جا ئے گا۔ اس سلسلے میں تمام اضلاع کے افسران کو ہدایت جا ری کردی گئی ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تجارتی مراکز کو میں فائر سسٹم ایس بی سی اے فائر سیفٹی
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :