پی ٹی آئی ،جی ڈی اے ودیگر کا 23جنوری کو گل پلازہ کے سامنے احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260121-01-7
کر اچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف سندھ کی میزبانی میں گل پلازہ کے اندوہناک آتشزدگی سانحے کے خلاف گل پلازہ کے سامنے ایک اہم اور مشترکہ پریس کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں، تاجر اتحادوں کے رہنماؤں اور سانحے سے متاثرہ افراد نے شرکت کی۔ پریس کانفرنس میں سانحہ گل پلازہ میں حکومتی غفلت، ناقص فائر سیفٹی انتظامات اور متاثرین کو بے یارو مددگار چھوڑنے کے خلاف 23 جنوری بروز جمعہ بعد از نمازِ جمعہ گل پلازہ کے سامنے بھرپور احتجاج کا اعلان کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، مرکزی رہنما فردوس شمیم نقوی، جی ڈی اے کے رہنما ڈاکٹر صفدر عباسی، سردار عبدالرحیم، پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان، راجا اظہر، ارسلان خالد، صدر ٹاؤن کے چیئرمین منصور احمد شیخ، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے ایڈووکیٹ نوید احمد کے علاوہ شیعہ علماء کونسل، سنی تحریک، بلوچستان عوامی پارٹی، جمعیت علماء اسلام (شیرانی) اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ پریس کانفرنس کے دوران سانحہ گل پلازہ کراچی کے عنوان سے نمائندہ سیاسی جماعتوں، تاجر تنظیموں اور اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے متفقہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ گل پلازہ میں پیش آنے والا سانحہ کراچی کے نظامِ حکمرانی، فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور بلدیاتی تیاری کی سنگین ناکامی کو بے نقاب کرتا ہے۔ شرکاء نے سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے شہری انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ اس سانحے میں فائر فائٹرز، ریسکیو ورکرز اور فیلڈ اسٹاف کسی صورت ذمے دار نہیں۔ ان اہلکاروں نے ناکافی وسائل اور حفاظتی انتظامات کے باوجود اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر فرائض انجام دیے۔ شہید ہونے والے فائر فائٹر اور ریسکیو اہلکاروں کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ لوگ مجرم نہیں بلکہ قوم کے ہیرو ہیں۔ پریس کانفرنس میں عمارتوں میں فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد، فائر اور ریسکیو سروسز کے وسائل کی کمی، حفاظتی آلات کی عدم دستیابی، اور ضلعی و بلدیاتی سطح پر بروقت ردعمل کی ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ متاثرہ دکانداروں اور شہریوں کو فوری ریلیف اور بحالی کی اشد ضرورت ہے۔جنرل سیکرٹری ارسلان خالد نے کہا کہ پی ٹی آئی متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے، نہ ریسکیو ہوا نہ ریلیف، کرپٹ حکمرانوں نے عوام کو لاوارث چھوڑ دیا ہے۔ آخر میں تمام جماعتوں اور تاجر تنظیموں نے اعلان کیا کہ 23 جنوری بروز جمعہ بعد از نمازِ جمعہ گل پلازہ کے سامنے پرامن احتجاج کیا جائے گا، جس میں کراچی بھر سے عوام شرکت کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گل پلازہ کے سامنے پریس کانفرنس پی ٹی ا ئی کیا گیا
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔