سعودی صوبے الجوف میں انٹرنیشنل ائرپورٹ کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب کے شمالی صوبے الجوف کے گورنر شہزادہ فیصل بن نواف بن عبدالعزیز نے نئے انٹرنیشنل ائرپورٹ کا افتتاح کر دیا جو آئندہ ماہ سے تجرباتی بنیادوں پر کام شروع کر دے گا۔ گورنر نے ائرپورٹ کے توسیعی حصے کا معائنہ بھی کیا۔ اس موقع پر ان کے ساتھ ڈپٹی گورنر شہزادہ متعب بن مشعل اور وزیر ٹرانسپورٹ و لاجسٹک سروسز انجینئر صالح بن ناصر الجاسر اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سربراہ عبدالعزیز دعیلج و دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ نیا ائرپورٹ آپریشنل ٹیسٹ مکمل کیے جانے کے بعد فروری سے تجرباتی بنیادوں پر کام شروع کر دے گا۔ افتتاحی تقریب میں ائرپورٹ کے حوالے سے دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔ واضح رہے کہ ائرپورٹ کی سالانہ گنجائش 10لاکھ مسافروں کی ہے۔ ایئر پورٹ کا نیا ٹرمینل 24 ہزار مربع میٹر پر محیط ہے جس میں 16 ٹریول کاؤنٹرز، 11 ٹریول گیٹس اور امیگریشن کے 5 کاؤنٹرز بنائے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔