قنبرعلی خان،ڈاکوئوں کیخلاف ٹارگیٹڈ آپریشن شروع
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260121-11-10
قنبرعلی خان (نمائندہ جسارت) ایس ایس پی قنبر شہدادکوٹ حسن سردار احمد خان نیازی کے احکامات پر قنبر شہدادکوٹ پولیس کا ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ افراد کے منظم گروہوں کے خلاف ضلع قنبر شہدادکوٹ اور جیکب آباد کی حدود میں ٹارگیٹڈ آپریشن۔ ایس ایس پی قنبر شہدادکوٹ کی سربراہی میں ڈی ایس پی میروخان، سی آئی اے پاسبان سمیت ضلع کی بھاری نفری نے پولیس موبائلز ، اے پی سی چین اور جدید آلات سمیت آپریشن میں حصہ لیا۔ آپریشن میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا گیا۔ یہ آپریشن ضلع قنبر شہدادکوٹ اور ضلع جیکب آباد کی حدود میں ڈاھانی اور ایری گینگز کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ جن میں بدنام زمانہ ڈاکوّ خانو ڈاھانی، شیرو ڈاھانی، امانو ڈاھانی، اکرو ڈاھانی ، رزاق ڈاھانی ، یاسین ڈاھانی اور ایری گینگ شامل ہے۔ ضلع پولیس نے ڈاکوئوں کے ٹھکانوں کو جلا کر مسمار کرکے تباہ کر دیا ہے۔ ضلع میں امن وامان کی فضا کو مزید مستحکم بنانے اور جرائم پیشہ افراد کا گھیرا تنگ کرنے کیلئے پولیس کی جانب سے جامع منصوبہ بندی کے تحت کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ٹارگیٹڈ آپریشن کے دوران مختلف علاقوں سے چند مشکوک افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ جنہیں ویریفائی کیا جا رہا ہے۔ آپریشن کا مرکز ضلع قنبر شہدادکوٹ کے علاقے سنجر بھٹی، سجاول جونیجو اور جیکب آباد کے علاقے پنہوں بھٹی، دوداپور اور گڑھی خیرو والے علاقے ہیں۔ ایس ایس پی قنبر شہدادکوٹ حسن سردار احمد خان نے کہا ہے کہ جب تک گاؤں گل محمد مستوئی کی وانڈ واقعے کے کیس میں ملوث ملزمان اپنے آپ کو قانون کے حوالے نہیں کرتے یا ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آتی تب تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قنبر شہدادکوٹ ایس پی
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔