لاہور کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کی منظوری دے دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بسنت کے فوری بعد لاہور کی انتظامی ری سٹرکچرنگ کا آغاز ہوگا، لاہور کی آبادی اور انتظامی دباؤ کم کرنے کیلئے دو حصوں میں تقسیم کا فیصلہ کیا گیا۔ نئے انتظامی سیٹ اَپ سے سروس ڈلیوری اور گورننس بہتر بنانے کا ہدف ہوگا، لاہور کی تقسیم سے ڈپٹی کمشنرز، پولیس اور میونسپل نظام الگ ہوگا۔ شہری سہولیات کی فراہمی کیلئے لاہور کی انتظامی حدود ازسرنو متعین کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ٹریفک، تجاوزات اور بلدیاتی مسائل کے حل کیلئے نئی انتظامی تقسیم ناگزیر قرار دی گئی۔ پنجاب حکومت کے مطابق لاہور کی آبادی بہت زیادہ ہے، 2 حصوں میں تقسیم ہونے سے عوامی شکایات کے فوری ازالے میں مدد ملے گی۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر متعلقہ محکموں کو تیاری مکمل کرنے کا حکم دیدیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب نے آج ہی پراسیس مکمل کرکے لاہورکو انتظامی بنیادوں پر 2 اضلاع میں تقسیم کرنے کا کہا۔ کچھ اہم اقدامات کے باعث 9 فروری کو دوبارہ اجلاس طلب کرلیا گیا، لاہور کی تقسیم صوبے میں شہری گورننس اصلاحات کا اہم قدم قراردیا گیا ہے۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ لاہور کو دو اضلاع میں تقسیم کرنا عوامی سہولت اور بہتر گورننس کیلئے ناگزیر ہو چکا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا ہنا تھا کہ دو اضلاع بننے سے سروس ڈلیوری تیز، مؤثر اور عوام کے قریب ہوگی، ٹریفک، تجاوزات اور بلدیاتی مسائل کا مستقل حل انتظامی ری سٹرکچرنگ میں ہے۔ انہون نے کہا کہ لاہور کے شہریوں کو فوری ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے، ہر فیصلے کا محور عوام کی آسانی اور شفاف گورننس ہے۔ مریم نوازشریف نے کہا کہ 2 اضلاع بننے سے شکایات کے ازالے کا نظام زیادہ مؤثر ہو جائے گا، لاہور کی تقسیم کوئی سیاسی نہیں بلکہ خالص انتظامی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ صوبے کے بڑے شہروں کیلئے جدید اور مؤثر گورننس ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔