اسپین میں ایک اور ٹرین حادثہ، ڈرائیور ہلاک، درجنوں زخمی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اسپین میں ٹرین حادثات کا سلسلہ تھم نہ سکا، بارسلونا کے قریب ایک مسافر ٹرین پٹڑی سے اتر گئی، جس کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور ہلاک اور متعدد مسافر زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ محض 2 روز قبل جنوبی اسپین میں پیش آنے والے ہولناک ٹرین تصادم کے بعد پیش آیا ہے، جس میں درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
???? #EnVideo | España
???? Un tren descarriló tras impactar un muro de contención que se precipitó sobre la vía férrea.
???? El siniestro se produjo en línea R4 de Rodalies dirección Barcelona, entre los municipios catalanes de Gelida y Martorell.
???? Autoridades informaron que… pic.twitter.com/UooC1HBau3
— Extra News Mundo (@extranewsmundo) January 21, 2026
ہسپانوی ایمرجنسی سروسز کے مطابق منگل کے روز بارسلونا کے نواحی علاقے میں ایک کموٹر ٹرین اس وقت پٹڑی سے اتر گئی جب بارشوں کے باعث ایک حفاظتی دیوار منہدم ہو کر ریل کی پٹری پر آ گری۔ حادثے میں ٹرین ڈرائیور موقع پر ہی ہلاک ہو گیا، جبکہ ٹرین میں سوار تمام 37 مسافر زخمی ہوئے، جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسپین میں تیز رفتار ٹرینوں کا خوفناک تصادم، 39افراد ہلاک، درجنوں زخمی
یہ حادثہ سانت سادورنی دانویا اور جیلیدا اسٹیشنوں کے درمیان پیش آیا، جو بارسلونا سے تقریباً 35 منٹ کے فاصلے پر واقع ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق حالیہ شدید بارشوں کے باعث کاتالونیا کے متعدد ریلوے روٹس پہلے ہی بند کیے جا چکے تھے۔
کاتالونیا کے قائم مقام صدر البرٹ دالماؤ میرانڈا نے کہا ہے کہ متاثرین کی حفاظت اور امداد کے لیے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دیوار کا گرنا حالیہ بارشوں کے سبب انفراسٹرکچر کی کمزوری کا نتیجہ تھا۔
“No hay ningún tren llegando”: Sacan los audios de la llamada del maquinista que alertó al #Adif del descarrilamiento de su tren, previo a que otro tren lo impactara dejando al menos 40 persona sin vida en #España.
????: @eldiarioes pic.twitter.com/aYPU4qVJO9
— quiero tv (@quierotv_gdl) January 21, 2026
واضح رہے کہ اس حادثے سے 2 روز قبل اسپین کے جنوبی صوبے کوردوبا کے علاقے آدموز کے قریب 2 تیز رفتار ٹرینوں کے درمیان تصادم ہوا تھا، جس میں کم از کم 42 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ ایک شخص تاحال لاپتا ہے۔ حکام کے مطابق اس واقعے میں تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے، اور تحقیقات ریل کی پٹری میں ممکنہ تکنیکی خرابی اور ویلڈنگ کے بگاڑ پر مرکوز ہیں۔
اسپین میں حالیہ ٹرین حادثات نے ریلوے نظام کی حفاظت اور انفراسٹرکچر کی حالت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپین اسپین ٹرین حادثہ ڈرائیور ہلاک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپین اسپین ٹرین حادثہ ڈرائیور ہلاک
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔