انڈے وزن میں کمی کیلئے محفوظ یا نقصان دہ؟ اہم سوالات کے سادہ جواب
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
ماہرین غذائیت کی جانب سے سپر فوڈ قرار دیے گئے انڈوں کے بارے میں ہمیشہ سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ کبھی انہیں صحت بخش غذا کہا جاتا ہے اور کبھی کولیسٹرول یا وزن بڑھنے کا سبب۔ اسی الجھن کو دور کرنے کے لیے ماہرین نے انڈوں سے متعلق عام سوالات کے واضح اور سادہ جواب دیے ہیں۔
غذائی ماہرین کے مطابق انڈے بہترین ناشتہ ہیں کیونکہ یہ زیادہ دیر تک معدہ بھرا رکھتے ہیں اور غیر ضروری بھوک کو کم کرتے ہیں۔ فیٹی لیور کے مریض بھی اعتدال میں انڈے کھا سکتے ہیں کیونکہ پروٹین جگر کی صحت کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے۔
غذائی ماہرین کا بتانا ہے کہ زیادہ تر صحت مند افراد میں انڈے کولیسٹرول نہیں بڑھاتے۔
تحقیق کے مطابق جسم خود کولیسٹرول کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرتا ہے، وزن کم کرنے والوں کے لیے بھی انڈے مفید ہیں کیونکہ یہ پیٹ کی چربی کم کرنے اور بغیر بھوک کے کھانے کی خواہشات پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں۔
انڈوں میں تقریباً صفر کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں اس لیے یہ بلڈ شوگر کو نہیں بڑھاتے اور شوگر یا انسولین کے مسائل رکھنے والوں کے لیے بھی موزوں ہیں۔ انڈے کافی یا گرین ٹی کے ساتھ کھانے سے بھی صحت پر کسی قسم کے نقصان کے شواہد نہیں ملے ہیں۔
غذائی ماہرین کے مطابق عام طور پر انڈے معدے میں گیس یا اپھارہ نہیں کرتے تاہم اگر کسی کو گیس کی شکایت ہو تو مقدار یا انڈے کھانے کا طریقہ بدلنا چاہیے۔
ماہرین کی جانب سے کچے انڈے کھانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے کیونکہ اس سے سالمونیلا انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جبکہ پکے ہوئے انڈوں کا پروٹین زیادہ بہتر طور پر جسم میں جذب ہوتا ہے۔
انڈے کھانے کا بہترین طریقہ
ابلے ہوئے، پوچڈ، اسکریمبل یا آملیٹ؛ سب ہی طریقے محفوظ ہیں۔ عام طور پر روزانہ ایک سے دو مکمل انڈے بالغ افراد کے لیے کافی اور محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔