’بےہودہ بہنیں‘، صبور علی کو سجل علی کی سالگرہ کی تصاویر شیئر کرنا مہنگا پڑگیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اداکارہ صبور علی نے اپنی بہن اور معروف اداکارہ سجل علی کی سالگرہ کے موقع پر خوبصورت تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں، جو مداحوں کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔
ان تصاویر میں بہنوں کے درمیان گہری محبت اور خوشگوار لمحات صاف جھلکتے نظر آئے۔
صبور علی نے تصاویر کے ساتھ محبت بھرا پیغام بھی لکھا اور سجل علی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
دونوں بہنوں کی یہ یادگار تصاویر ان کے مضبوط رشتے اور خلوص کی خوبصورت عکاسی کرتی ہیں۔
https://dailymumtaz.com/wp-content/uploads/2026/01/Saboor-video.mp4
سالگرہ کی یہ جھلکیاں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں۔
View this post on Instagram
A post shared by Saboor Ali Ansari (@sabooraly)
ایک جانب مداحوں اور شوبز شخصیات نے سجل علی کو سالگرہ کی مبارکباد دی اور تصاویر کی خوب تعریف کی تو دوسری جانب بعض صارفین نے دونوں بہنوں بالخصوص صبور علی کے بولڈ لباس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔