بلوچستان کا بیشتر بجٹ تنخواہوں اور پنشن پر خرچ، ترقی کے لیے محدود وسائل دستیاب، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کا سالانہ بجٹ تقریباً ایک ہزار ارب روپے پر مشتمل ہے، تاہم اس کا قریب 80 فیصد حصہ نان ڈیولپمنٹ اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے، جس کے باعث عوامی فلاح و ترقی کے لیے محدود وسائل دستیاب رہ جاتے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ نان ڈیولپمنٹ بجٹ کا بڑا حصہ صوبے کے تقریباً ڈھائی لاکھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ صوبے کی 1 کروڑ 30 لاکھ آبادی کی فلاح و بہبود کے لیے محض 200 ارب روپے دستیاب ہوتے ہیں۔
بلوچستان کا تقریباً ایک ہزار ارب روپے کا سالانہ بجٹ ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں قریب 80 فیصد نان ڈیولپمنٹ اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے “یعنی ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن” جبکہ محض 200 ارب روپے صوبے کی 1.
— Sarfraz Bugti (@PakSarfrazbugti) January 21, 2026
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اس غیر متوازن مالی نظام کو درست کرنے کے لیے گزشتہ 2 برسوں کے دوران متعدد متروک اور غیر مؤثر سرکاری دفاتر بند کیے گئے۔ ان کے مطابق زکوٰۃ، مذہبی امور اور سول ڈیفنس جیسے غیر فعال محکمے ختم کر کے تقریباً 8 ہزار غیر ضروری سرکاری آسامیاں بھی ختم کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ غیر حاضر سرکاری ملازمین کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی عمل میں لائی گئی تاکہ سرکاری نظام کو مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اصلاحات کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا، تاہم کسی بھی قسم کا دباؤ، احتجاج یا بلیک میلنگ حکومت کو عوام کے حق کے تحفظ سے نہیں روک سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کے مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اصلاحات کا عمل ہر صورت جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سرفراز بگٹی وزیر اعلی ارب روپے کے لیے
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر