عمر بن عبدود کا ترجمان میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: آج بھی ایران کے سوا باقی اکثر اسلامی ممالک کے سروں پر اسی طرح پرندے بیٹھے ہوئے ہیں جس طرح عمر بن عبدود کی للکار کے مقابلے میں، بجز حیدر کرار، تمام لشکریوں کے سروں پر پرندے اپنا ڈیرہ جمائے ہوئے تھے۔ آج امریکہ کے خوف کے مارے ہوئے بعض ذرائع ابلاغ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ایران امریکہ کے مقابلے میں کسی کم حیثیت کا حامل ہے اور کیا امریکہ کا وجود ایران پر حملہ کرکے پھر اسی طرح رہے گا جس طرح وہ آج ہمیں نظر آتا ہے؟ کیا ہم سب بھول گئے کہ خدائے قہار نے ”ہاتھی والوں“ کے ساتھ کیا کیا تھا؟ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی
آج کی جنگوں میں پروپیگنڈہ ایسا ہتھیار ہے جو جیتی ہوئی بازی کو شکست اور ہاری ہوئی جنگ کو فتح بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ”جنگ خندق“ میں جب افسانوی شہرت کا حامل، دیو ہیکل سورما ”عمر بن عبدود“ رجز خوانی کرتے ہوئے اپنے راستے میں کھودی گئی خندق کو پھلانگ کر اور اپنے مقابل کے سر چڑھ کر للکارنے لگا اور بدکلامی کرنے لگا تو اس موقعے پر اس کے مدمقابل لشکر میں قبرستان کی سی خموشی چھا گئی۔ یوں لگا جیسے لشکریوں کے سروں پر پرندے بیٹھ گئے ہیں۔ اس خموشی کو کاٹتے ہوئے آخر ”سردارِ لشکر“ کی گرجدار آواز بلند ہوئی کہ ”کوئی ہے جو اس نجس کی زبان بند کرے؟“ تین بار یہ جملے دھرائے گئے۔
ہر بار بھرے لشکر میں سے محض ایک جانفروش، اپنی ہتھیلی پر اپنی جاں لیے، اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے، اس للکارنے والے سے جنگ آزمائی کے لیے کھڑا ہوا لیکن سردار لشکر نے ہر بار اسے اپنے اشارے سے بٹھا دیا۔ شاید وہ اس مرحلے پر ہر کسی کو یہ موقع فراہم کرنا چاہتا تھا کہ وہ میدان میں اپنی طاقت کا لوہا منوا لے اور اپنی تلوار کے جوہر آزمالے لیکن جب کوئی نہ اٹھا تو آخر کار وہ جس کی ماں نے اس کا نام ”حیدر“ رکھا تھا اور جس کے نامہءاعمال میں ایک ایسی ”ضربِ یداللہٰی“ لکھی گئی تھی جسے ثقلین کی تمام عبادت سے افضل ہونا تھا، آگے بڑھا اور للکارنے والے کی آواز کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔
لمحہء موجود میں بھی ایسا ہی ایک منظر ہمارے سامنے ہے جب ایک طرف سرخ بالوں والا آج کا عمر بن عبدود اپنی طاقت کے نشے میں اسی کے وارثوں کو للکار رہا ہے جس نے خندق کے بعد خیبر میں بھی دشمنان خدا کی ناک رگڑی تھی۔ آج کا اکثر میڈیا بھی اسی طرح آج کے سب سے بڑے طاغوت کی طاقت کا اشتہار بنا ہوا ہے جس طرح جنگ خندق میں بعض کم ہمت لوگ عمر بن عبدود کی طاقت و جبروت کے قصیدے پڑھ رہے ہیں۔
آج بھی ایران کے سوا باقی اکثر اسلامی ممالک کے سروں پر اسی طرح پرندے بیٹھے ہوئے ہیں جس طرح عمر بن عبدود کی للکار کے مقابلے میں، بجز حیدر کرار، تمام لشکریوں کے سروں پر پرندے اپنا ڈیرہ جمائے ہوئے تھے۔ آج امریکہ کے خوف کے مارے ہوئے بعض ذرائع ابلاغ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ایران امریکہ کے مقابلے میں کسی کم حیثیت کا حامل ہے اور کیا امریکہ کا وجود ایران پر حملہ کرکے پھر اسی طرح رہے گا جس طرح وہ آج ہمیں نظر آتا ہے؟ کیا ہم سب بھول گئے کہ خدائے قہار نے ”ہاتھی والوں“ کے ساتھ کیا کیا تھا؟ (لَمْ تَـرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحَابِ الْفِيْلِ)۔
امریکہ نے اس سے قبل بھی 1980ء میں اپنے وقت کے طاغوت، ”جمی کارٹر“ کی قیادت میں ایران کی قیادت کو ختم کرنے کے لیے ایران پر ایک فضائی حملہ کیا تھا۔ اس ناکام فوجی ریسکیو آپریشن کو (Operation Eagle Claw) کا نام دیا گیا تھا۔ لیکن پھر یہ ہوا کہ ”خیر الماکرین“ کی حکمت عملی ان پر غالب آئی اور وہ جو اپنی آستینوں میں بجلیاں لے کر آئے تھے، ایک طوفان بلا خیز کی زد میں آ کر اپنی ہی آگ میں بھسم ہو کر رہ گئے۔ اس خفیہ مشن سے پہلے جمی کارٹر نے ایک پریس کانفرنس کی تھی۔
اس پریس بریفنگ میں کارٹر سے جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ ”آپ نے امریکی یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے کیا منصوبہ بنایا ہے؟“ تو جمی کارٹر نے اس کے جواب میں کہا کہ ”ہم نے اپنا ”ریمبو“ تیار کیا ہوا ہے“۔ ریمبو ان دنوں امریکی سینماؤں پر چھایا ہوا ایک ایسا کردار تھا جو بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دیا کرتا تھا۔ آج بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے کئی ریمبو تیار کیے ہوں گے لیکن زمینی حقیقت یہ ہے ان کے مقابلے میں زیرِ صحرا بھی کئی ایسے طوفان انگڑائیاں لے رہے ہیں جو انہیں، ان کے پروپیگنڈہ ہتھیاروں سمیت، کسی ”صحرائے طبس“ کا لقمہ بنانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
طاقت کا حقیقی مرکز کون؟
ارشاد رب ذوالجلال والاکرام ہے:
”حتیٰ اذا رَاَوامَا یُوعَدُونَ فَسَیَعلَمُونَ مَن اَضعَفُ ناَصِرًا وَّ اَقَّلَ عَدَدَاً۔“ (سورہ جن)
”جب وہ اس وقت دیکھیں گے کہ وہ کیا وعدہ ہے جو کیا گیا ہے۔ پس وہ بہت جلد جان لیں گے کہ کس کے ناصر کم ہیں اور کون کمزور ہے۔ “
حضرت امام زین العابدین (ع) نے اس آیت کے تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ آیت اصحابِ قاٸمِ آل محمد اور آپ کے دشمنوں سے متعلق ہے۔ جب حضرت قاٸم (عج) ظہور فرماٸیں گے تو اس سے پہلے ان کے دشمن کمزور اور ناتواں ہو چکے ہوں گے اور ان کی افواج کی تعداد اور اسلحے کی مقدار کم ہو چکی ہوگی (کافی)۔ آج ہر اہل نظر اس آیت مبارکہ کی چشم دید گواہ ہے۔ کل تک جن اسلام دشمن طاقتوں کی ہیبت کی داستانیں ہر خاص و عام کی زبان پر تھیں، آج اسلامی مقاومتی قوتوں کے سامنے ان کا جاہ و جلال خاک میں مل چکا ہے۔
عددی اعتبار سے اس محور مقاومت کے لشکری ایک سیل رواں کی صورت اپنے ہر دشمن کی سمت بڑھنے کے لیے ہردم تیار ہیں۔ ایران کی دشمن شکن مسلح افواج ہوں، حزب اللہ کے جوانوں کا طوفانی لشکر ہو یا اہل یمن کا حد نظر تک ٹھاٹھیں مارتا سمندر، ان کے مقابلے میں امریکہ اور اسراٸیل کی مسلح افواج کی افرادی قوت کسی شمار اور کسی قطار میں نہیں۔ کسی بھی جنگ میں فتح یابی کے لیے ہتھیار بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ جو فوج ہتھیاروں سے جس قدر لیس ہوگی اپنے دشمن کے مقابلے میں کامیابی اسی قدر اس کے قدم چومے گی۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کے فوری بعد ہی ایران پر جنگ مسلط کر دی گئی۔ اس آٹھ سالہ جنگ نے ایرانی نوجوانوں کے لیے تربیتی اکیڈمی کا کام کیا۔ ایران نے اپنے دفاعی شعبے میں خودکفیل ہونے کا درس بھی اسی جنگ کے سایے میں حاصل کیا۔ ایران تب سے اب تک اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے میں مسلسل اضافہ کرتا آیا ہے۔ ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے آج سے سالوں سال قبل کہا تھا کہ ہم کم سے کم اپنے ہتھیاروں کے گوداموں کا منہ اس قدر بھرنا چاہتے ہیں جس سے ہم امریکہ جیسی طاقت کے ساتھ کم ازکم بیس سال تک مسلسل جنگ لڑ سکیں۔
ایران نے اپنی مسلح افواج کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے میں بھی حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ ایران کے میزاٸلوں اور ڈرونز کی ترقی یافتہ شکل کی روس جیسی سپر پاور بھی خریدار ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ کے میدان میں دنیا ان ایرانی ہتھیاروں کا مظاہرہ دیکھ چکی ہے۔ ایران کے اسراٸیل پر حالیہ حملے میں ایران نے اسراٸیل پر جو ڈرون حملہ کیا ہے وہ اب تک کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈرون حملہ ہے۔ ایران نے اسراٸیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اس کے بعد کوٸی نٸی حماقت کی تو اس کا جواب اس سے بھی شدید تر ہو گا۔ گویا ابھی ابتدا ہے، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ ایران کی اس کارواٸی کو دیکھ کر امریکہ کا سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کہ اٹھا ہے کہ امریکہ ایران کے مقابلے میں کمزور ثابت ہوا ہے۔
”فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ‘‘
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے مقابلے میں کے سروں پر امریکہ کے ایران پر ایران کے ایران نے کے لیے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ