فرانسیسی صدر ایمانئل میکرون کے چشمے سوشل میڈیا پر وائرل، قیمت کتنی؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
عالمی سیاست میں گرین لینڈ سے متعلق قیاس آرائیوں اور جیو پولیٹیکل کشیدگی کے درمیان فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ورلڈ اکنامک فورم میں اپنی شاندار موجودگی سے سب کی توجہ حاصل کر لی۔
ڈیووس میں خطاب کے دوران جہاں ان کا لب و لہجہ سخت اور دو ٹوک تھا، وہیں ان کی شخصیت اور منفرد چشمہ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: گرین لینڈ پر امریکی دباؤ مسترد، یورپ غنڈہ گردی کے آگے نہیں جھکے گا، فرانسیسی صدر میکرون
فرانسیسی صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر مجوزہ کنٹرول کی مخالفت کرنے والے 8 یورپی ممالک پر ٹیرف لگانے کی دھمکی پر سخت ردعمل دیا۔
ان کی تقریر کو نہ صرف مضبوط قرار دیا گیا بلکہ ان کے انداز اور نیلے رنگ کے ریفلیکٹو ایوی ایٹر چشمے نے بھی خاص توجہ حاصل کی، جو انہوں نے ہال کے اندر پہنے رکھے تھے۔
اگرچہ میکرون نے تقریر کے دوران چشمہ پہننے کی کوئی براہ راست وضاحت نہیں کی، تاہم فرانسیسی رپورٹس کے مطابق یہ ایک طبی وجہ کی بنا پر تھا۔
ایلیزے پیلس نے تصدیق کی کہ صدر ایک آنکھ میں خون کی نالی پھٹنے یعنی سب کونجنکٹائیول ہیمریج کا شکار تھے، اسی لیے آنکھوں کے تحفظ کے لیے چشمہ استعمال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فرانسیسی صدر کو خاتون اول سے مبینہ تھپڑ؛ ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی رہنماؤں کو کیا مشورہ دیا؟
گزشتہ ہفتے جنوبی فرانس میں ایک فوجی تقریب کے دوران بھی میکرون کی آنکھ سرخ دیکھی گئی تھی، جہاں انہوں نے اسی نوعیت کا چشمہ پہنا تھا۔
اس موقع پر انہوں نے اپنی حالت کو معمولی اور غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بالکل بے ضرر ہے اور نظر پر کوئی اثر نہیں ڈالتی۔ انہوں نے مذاق میں اسے ٹائیگر آئی کا نام بھی دیا اور کہا کہ یہ عزم کی علامت ہے۔
ڈیووس میں خطاب کے دوران میکرون نے عالمی سیاست اور تجارت پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ یورپ غنڈہ گردی کے بجائے احترام کو ترجیح دیتا ہے اور طاقت کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے امریکا کی جانب سے مسلسل نئے ٹیرف عائد کرنے کے رجحان کو ناقابل قبول قرار دیا، خاص طور پر جب اسے علاقائی خودمختاری پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: فرانسیسی صدر کو خاتونِ اول سے مبینہ تھپڑ پڑنے کی ویڈیو وائرل
جہاں تک وائرل چشمے کی قیمت اور ماڈل کا تعلق ہے، فیشن ماہرین کے مطابق امکان ہے کہ میکرون نے لوئی ویٹن کے اٹیٹیوڈ پائلٹ سن گلاسز پہنے تھے، جو 2009 کے آٹم ونٹر کلیکشن کا حصہ تھے۔
ان کی نئی جوڑی کی قیمت تقریباً 995 ڈالر بتائی جاتی ہے، تاہم کچھ اندازے بجیو سولڈاڈو یا رے بین چشموں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔
صدر کی جانب سے تاحال کسی برانڈ کی تصدیق نہیں کی گئی اور چونکہ چشمے پر کوئی واضح لوگو موجود نہیں تھا، اس لیے حتمی شناخت مشکل ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق سب کونجنکٹائیول ہیمریج ایک بے ضرر کیفیت ہے، جس میں درد نہیں ہوتا اور نظر متاثر نہیں ہوتی۔ یہ عام طور پر 2 ہفتوں کے اندر خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حالت زور سے چھینکنے، کھانسی، آنکھ رگڑنے یا بعض اوقات ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news چشمے ڈونلڈ ٹرمپ صدر میکرون فرانس قیمت گرین لینڈ وائرل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ صدر میکرون گرین لینڈ وائرل میکرون نے گرین لینڈ کے دوران انہوں نے
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔