سپارکو اے آئی کے ذریعے بندرگاہوں کی مانیٹرنگ میں معاونت کریگا، جنید انوار
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے سپارکو ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جو کسی بھی بحری امور کے وزیر کا اپنی نوعیت کا پہلا دورہ ہے۔چیئرمین سپارکو یوسف خان اور اعلیٰ سطحی افسران نے وزیر کو سپارکو کے کاموں اور منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔دورے کے دوران نئی بندرگاہوں کے ممکنہ مقامات کا سیٹلائٹ کے ذریعے جائزہ لیا گیا۔
جنید انوار چوہدری نے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے سمندری حدود میں ریلیف اور ریسکیو منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر نے ملکی بندرگاہوں کی سیٹلائٹ مانیٹرنگ پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔جنید انوار چوہدری نے کہا کہ سپارکو کی جدید ٹیکنالوجی سے بندرگاہوں کی منصوبہ بندی میں آسانی ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ سمندری ماحولیاتی نگرانی سے پالیسی سازی میں مدد ملے گی۔
وزیر نے موسمی تبدیلی اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ کی اہمیت پر زور دیا۔جنید انوار چوہدری نے کہا کہ سپارکو وزارت میں قائم اے آئی سیکریٹریٹ کے ذریعے بندرگاہوں کی مانیٹرنگ میں معاونت کرے گا۔یہ دورہ ملکی سمندری سیکٹر میں ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور جدید منصوبہ بندی کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جنید انوار چوہدری نے بندرگاہوں کی کے ذریعے
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار