پلیٹ فارم سے امن کے لیے عملی پیش رفت کی امید ,پاکستان ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل WhatsAppFacebookTwitter 0 21 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد (آفتاب جہان/آئی پی ایس )پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کیلیے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی۔ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرنے کی تصدیق کردی۔ترجمان دفترخارجہ کے مطابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہبازشریف کو بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا، بورڈ آف پیس کا مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان نے فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے، پاکستان نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپورحمایت کا اعادہ بھی کیا۔ترجمان کے مطابق پاکستان آزاد، خودمختارفلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے، پاکستان کامقف ہے کہ1967سیقبل کی سرحدوں پر مشتمل فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے دکھ درد کے خاتمے کیلیے تعمیری کردار ادا کرتا رہیگا،

بورڈ آف پیس کے پلیٹ فارم سے امن کے لیے عملی پیش رفت کی امید ہے۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکا مختلف عالمی رہنماں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ٹرمپ کی سربراہی میں قائم اس بورڈ کا حصہ بنیں، جس میں مستقل نشست کے لیے ایک ارب ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے۔اگرچہ ابتدائی طور پر اس بورڈ کا مقصد غزہ کی بحالی کے امور کی نگرانی بتایا گیا تھا، تاہم اس کے چارٹر میں اس کے دائرہ کار کو صرف غزہ تک محدود نہیں کیا گیا۔ خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ دستاویزات کے مطابق یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کے متبادل یا حریف کے طور پر ابھرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسی ڈی اے کا ہائوسنگ سوسائٹیز سے ریکوری کا فیصلہ، گلبرگ،بحریہ ٹائون،الحمراء ایونیو،اوور سیز پاکستان فائونڈیشن ہائوسنگ سوسائٹی کو نوٹسز جاری،تفصیلات سب نیوز پر سی ڈی اے کا ہائوسنگ سوسائٹیز سے ریکوری کا فیصلہ، گلبرگ،بحریہ ٹائون،الحمراء ایونیو،اوور سیز پاکستان فائونڈیشن ہائوسنگ سوسائٹی کو نوٹسز جاری،تفصیلات سب نیوز پر سپریم لیڈر پر حملہ پوری اسلامی دنیا کے خلاف جنگ تصور کیا جائے گا، ایران بلدیاتی الیکشن ، صدارتی آرڈیننس، التوا کیخلاف درخواست پر جواب طلب چیئر مین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس،پانی کے مسائل کا جائزہ کے پی ، اسٹریٹجک ذخائر سے ایک لاکھ 36 ہزار میٹرک ٹن گندم کی ریلیز شروع غزہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا کوئی ارادہ نہیں، ٹرمپ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بورڈ آف پیس میں کے لیے عملی پاکستان نے کے مطابق سب نیوز

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی