data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم کیے گئے مبینہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کش قبول کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف فلسطینی عوام کے مفادات کے خلاف ہے بلکہ خطے میں امریکی بالادستی کو مضبوط کرنے کی کوشش بھی ہے،ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کے حکومتی فیصلے کو جماعت اسلامی یکسر مسترد کرتی ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ اس نام نہاد بورڈ میں ایسے افراد شامل ہیں جو ماضی میں مسلم ممالک کی تباہی کے ذمہ دار رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عراق کو تباہ کرنے والے مجرموں کو امن کے نام پر پیش کرنا ایک سنگین مذاق ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ٹرمپ کا بورڈ آف پیس درحقیقت فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کا ایک نیا نظام ہے،تعمیر نو کے نام پر غزہ پر امریکی کنٹرول قائم کرنے کی کوشش ناقابل قبول ہے اور اس سے فلسطینی عوام کی آزادی اور خودمختاری کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، امن کے نام پر مسلط کیا جانے والا کوئی بھی منصوبہ، جو مظلوموں کی مرضی اور حقوق کے بغیر ہو، کبھی بھی پائیدار ثابت نہیں ہو سکتا۔

حافظ نعیم الرحمان نے پاکستانی وزارت خارجہ کے مؤقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت غزہ امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے، یہ مؤقف حقائق کے برعکس ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے،سلامتی کونسل کی قراردادوں کا مقصد فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ ہے، نہ کہ کسی نئی عالمی بالادستی کو فروغ دینا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بورڈ آف پیس

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل