Jang News:
2026-07-24@02:21:41 GMT

آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش

اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT

آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش

تحریک انصاف کے رکن محمد اسلم گھمن نے آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ 

بل کے مطابق صوبائی اسمبلی کی خواتین نشستوں کو براہ راست اور آزادانہ ووٹ کے ذریعے منتخب کیا جائے۔ 

بل کے متن کے مطابق غیر مسلم مخصوص نشستوں کے لیے ہر صوبہ ایک واحد حلقہ بنے گا، غیر مسلموں کی تمام نشستیں الیکشن کمیشن میں جمع پارٹی فہرستوں کے مطابق دی جائیں۔ 

قومی اسمبلی نشے میں دوران ڈرائیونگ قتل خطا پر 10 سال قید اور 5 لاکھ جرمانے کا بل بھی پیش کردیا گیا۔

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی خواجہ اظہار، ارشد وہرا اور پیپلز پارٹی کے ایم این اے مرزا اختیار بیگ نے بل قومی اسمبلی میں پیش کیا۔

بل میں پاکستان پینل کوڈ اور کوڈ آف کرمنل پروسیجر میں ترامیم تجویز کی گئی ہے، ڈپٹی اسپیکر نے تینوں ارکان کا بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا ہے۔

بل کے متن کے مطابق شراب، منشیات یا نشہ آور اشیاء کے زیر اثر دوران ڈرائیونگ ڈرائیور قتل خطا کا مرتکب ہوگا۔

بل کے متن کے مطابق ڈرائیور کا ٹیسٹ شراب یا منشیات کے استعمال کا پتا لگانے کے لیے کیا جائے گا، ایسا ٹیسٹ حادثے یا گرفتاری کے 2 گھنٹے کے اندر کیا جائے گا۔

بل کے متن کے مطابق اگر کیمیکل ٹیسٹ سے ثابت ہو جائے تو سیکشن 320 اے یا قتل خطا کے تحت ایف آئی آر درج ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: بل کے متن کے مطابق قومی اسمبلی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق