غزہ بورڈ آف پیس کا اعلان؛ اسرائیل نے صحافیوں کی گاڑی کو اُڑا دیا؛ 11 شہادتیں
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
ایک جانب امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ غزہ بورڈ آف پیس کی دستخطی تقریب میں امن و امان کی یقین دہانی کرا رہے تھے تو دوسری جانب اسرائیل فلسطینیوں پر قہر ڈھا رہا تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ پر اسرائیلی بمباری تھم نہ سکی۔ اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور فضائی حملوں میں کم از کم 11 فلسطینی شہید ہوگئے۔
شہید ہونے والوں میں تین صحافی اور دو کم عمر بچے بھی شامل ہیں جب کہ درجنوں افراد زخمی ہیں جن کی حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہونے والے تینوں فلسطینی صحافی انس غنئیم، عبدالرؤف شعت اور محمد قشطہ بے گھر افراد کے کیمپ کی رپورٹنگ کے لیے ایک گاڑی میں پہنچے تھے۔
صحافیوں کی تنظیم کے مطابق وہ ایک انسانی اور صحافتی مشن پر تھے اور شہریوں کی مشکلات کو دستاویزی شکل دے رہے تھے۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وسطی غزہ میں حماس سے منسلک ڈرون چلانے والے مشتبہ افراد کی نشاندہی پر انہیں نشانہ بنایا گیا۔ نہیں معلوم تھا صحافی تھے۔
فلسطینی صحافیوں کی یونین نے اسرائیلی فوج کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شہید صحافی امدادی اور صحافتی کام انجام دے رہے تھے۔
مقامی صحافیوں کے مطابق ان کی سرگرمیاں مصر کی ایک کمیٹی کے تعاون سے ہو رہی تھیں، جو غزہ میں امدادی کاموں کی نگرانی کرتی ہے۔
ایک مصری سکیورٹی ذریعے نے تصدیق کی کہ نشانہ بننے والی گاڑی اسی کمیٹی کی تھی۔
صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ میں کم از کم 206 صحافی اور میڈیا ورکرز مارے جا چکے ہیں۔
فلسطینی صحافی تنظیم کے مطابق یہ تعداد 260 سے زائد ہے۔ اسرائیل نے تاحال کسی واقعے کی باقاعدہ تحقیقات یا ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں کی۔
اسرائیلی کی ہٹ دھرمی اور غنڈہ گردی کا عالم یہ ہے کہ یہ حملے ان علاقوں میں ہوئے جہاں اکتوبر میں طے پانے والی جنگ بندی کے تحت امن کی ضمانت دی گئی تھی۔
گزشتہ برس اکتوبر میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک جھڑپوں میں 460 سے زائد فلسطینی اور تین اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی اسرائیلی کارروائیوں میں غزہ میں اب تک 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور دو لاکھ سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔