گل پلازہ میں لگنے والی آگ کی تحقیقات کے لیے تفتیشی ٹیم متحرک ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
گل پلازہ میں لگنے والی آگ کی تحقیقات کے لیے تفتیشی ٹیم متحرک ہوگئی۔
ایکسپریس نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ گل پلازہ میں 16 دروازے موجود تھے جس وقت حادثہ پیش آیا بیشتر دروازے بند تھے اور صرف 2 دروازے کھلے ہوئے تھے جہاں سے لوگوں نے رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیںسانحہ گل پلازہ؛ جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہوگئی، اموات میں اضافے کا اندیشہ ہے، پولیس سرجن
سانحہ گل پلازہ: تحقیقات میں تیزی، ایس بی سی اے نے مکمل ریکارڈ جمع کروا دیا
سانحہ گل پلازہ؛ آتشزدگی کا شکار ایک ہی دکان سے 30 لاشیں برآمد، جاں بحق افراد کی تعداد 61 ہوگئی
ذرائع کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کے دوران اندر پھنسے افراد نے ایک دروازہ توڑ کر باہر نکلنے کی بھی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ نے 2 مختلف مقامات سے نمونے جمع کیے ہیں جس میں سے 3 نمونے مصنوعی پھولوں کی دکان سے حاصل کیے اور دیگر 3 نمونے گل پلازہ کے دیگر مختلف مقامات سے جمع کیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات میں آتشزدگی کے دوران مارکیٹ انتظامیہ اور ریسکیو ادارے کتنے متحرک رہے اس کا بھی جائزہ لیا جائیگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گل پلازہ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔