پنجاب کے ہر ضلع میں ٹیلی میڈیسن پروگرام شروع کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جھنگ (مانیٹر نگ ڈ یسک )وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ہر ضلع میں ٹیلی میڈیسن پروگرام شروع کرنے جارہے ہیں۔پنجاب کے ضلع جھنگ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال میں امراض قلب لیبارٹری کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی میں دل کے مریض کو دوسری جگہ منتقل کرنا مشکل ہوتا ہے۔اْنہوں نے کہا کہ ڈی ایچ کیو جھنگ میں کیتھ لیب کا قیام خوش آئند ہے، عوام کوصحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنا ترجیح ہے، پنجاب بھر میں 16 کیتھ لیب بن چکی ہیں، نوازشریف کینسر اسپتال کی تکمیل آخری مراحل میں ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ دوسرے صوبوں کے لوگ بھی پنجاب کے اسپتالوں سے مستفید ہو رہے ہیں، غربت اور وسائل کی کمی کی وجہ سے عوام علاج نہیں کرا سکتے تھے،6ماہ میں جھنگ ترقی یافتہ شہر کا منظر پیش کرے گا۔مریم نواز نے کہا کہ خواہش ہے کہ پنجاب کے ہر ضلع میں دل کا اسپتال ہو، پنجاب میں ائرایمبولینس کے ذریعے سیکڑوں مریضوں کی جانیں بچائی گئیں، اعضا کی پیوند کاری کے حوالے سے مفت علاج کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔اْن کا کہنا تھا کہ عوام کومفت ادویات کی فراہمی کے لیے اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں، دل کے مرض میں مبتلا ہزاروں بچوں کا مفت علاج کیا گیا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جھنگ میں واسا کے قیام سے سیوریج میں بہتری آرہی ہے، صوبے بھر میں ستھرا پنجاب پروگرام کے ذریعے آپ کے ضلع کی گلیاں اور محلے صاف ہو رہے ہیں۔مریم نواز نے مزید کہا کہ لاہور پاکستان کا پہلا میڈیکل ڈسٹرکٹ بن چکا ہے جہاں سب سے پہلے ٹیلی میڈیسن پروگرام شروع ہوا جسے ہم مزید وسعت دینے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مریم نواز پنجاب کے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔