جیکب آباد،اینٹی ریپ کرائسز سیل برسوں سے غیرفعال
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جیکب آباد (نمائندہ جسارت)جیکب آبادمیں اینٹی ریپ کرائسسز سیل سالوں سے غیر فعال ،آسیہ کھوسو زیادتی کیس میں چیئرمین اینٹی ریپ کرائسسز سیل کا کردار نظر نہ آیا ،متاثر ہ لڑکی کا میڈیکل ایکٹ کے تحت ضلعی ہیڈ کوارٹر اسپتال کے بجائے تعلقہ اسپتال سے کرایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں اینٹی ریپ کرائسز سیل اپنے قیام سے ہی ضلع میں غیر فعال ہے وفاقی حکومت کی جانب سے 2021ء میں اینٹی ریپ انویسٹیگیشن اینڈ ٹرائل ایکٹ لایا گیا اور 10جولائی 2023ء کو باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن جاری کرکے ہر ضلع میں اینٹی ریپ کرائسز سیل قائم کیا گیا جس کا چیئر مین ڈپٹی کمشنر اور ضلعی ہیڈ کوارٹر کی اسپتال کا سول سرجن اور ایس ایس پی رکن ہیںاینٹی ریپ سیل کے چیئر مین ڈپٹی کمشنر کی ذمہ داری ہے کہ زیادتی کیس کی اپنی نگرانی میں کیس کے اندراج سمیت ڈی این اے کے لئے نمونے لئے جاتے لیکن آسیہ کھوسو زیادتی کیس میں اینٹی ریپ کرائسز سیل کے چیئر مین ڈپٹی کمشنر جیکب آباد کا کردار نظر نہ آیا۔آسیہ کھوسو کے ڈی این اے کے نمونے اینٹی ریپ کرائسز سیل کے برعکس ضلعی ہیڈ کوارٹر اسپتال کے بجائے تعلقہ اسپتال ٹھل سے کرائے گئے۔ قانونی ماہرین کے مطابق وفاقی حکومت کے باضابطہ طور پر 2023ء میں اینٹی ریپ کرائسز سیل کے قیام کا مقصد ریپ کیس 375ای کیس میں سیل کو فعال ہونا ہے لیکن ڈپٹی کمشنرجیکب آباد نے آسیہ کھوسو کیس میں مکمل خاموشی اختیار کی اور اینٹی ریپ کرائسزسیل مکمل غیر فعال رہا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا سیہ کھوسو جیکب ا باد کیس میں سیل کے
پڑھیں:
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقےنشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق
اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگاسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیلمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے