پاکستان میں پہلی بار سونا 5لاکھ روپے سے تجاوز کر گیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے اور بدھ کو12ہزار روپے سے زائد اضافے سے ایک تولہ سونا 5 لاکھ روپے کی بلند سطح عبور کر گیا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں نمایاں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 12 ہزار 700 روپے کے ہوشربا اضافے سے ملکی تاریخ میں پہلی بار 5 لاکھ 6 ہزار 362 روپے پر جاپہنچا۔ اسی طرح 10گرام سونے کی قیمت بھی 10 ہزار888 روپے کے بھاری اضافے سے 4 لاکھ 34 ہزار123 روپے ہوگئی۔ عالمی بلین مارکیٹ میں منگل کو سونا 127 ڈالر کے بڑے اضافے سے 4840 ڈالر فی اونس کی ریکارڈ سطح پر جا پہنچا۔ دریں اثنا چاندی کی فی تولہ قیمت 64 روپے کے اضافے سے ملکی تاریخی میں پہلی بار 9 ہزار 933 روپیکی بلند ترین سطح پر جاپہنچی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اضافے سے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔