گل پلازہ آتشزدگی: واقعے کے وقت تمام دروازے کھلے تھے، کمیٹی صدر تنویر پاستا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
کراچی:
گل پلازہ منجمینٹ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ گل پلازہ آتشزدگی کے وقت عمارت کے تمام دروازے کھلے ہوئے تھے ۔میڈیا پر یہ تاثر غلط ہے کہ واقعہ کے وقت دروازے بند تھے۔
دروازے کھلے ہونے کے سبب سیکنڑوں افراد آگ لگنے کے دوران عمارت سے باحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ جس وقت عمارت میں آگ لگی اس وقت چار ہزار سے زائد افراد مارکیٹ میں ہوں گے۔ان میں بڑی تعداد باہر نکلنے میں کامیاب رہی جبکہ کئی افراد پھنس گئے تھے۔
جب آگ لگی تو حفاظتی اقدام کے طور پر بجلی بند کرائی گئی۔اگر بجلی بحال ہوتی تو آگ لگنے سے شارٹ سرکٹ ہوتا بہت نقصان ہوسکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی افسوس ہے۔
ریسیکو آپریشن ہمارے تجاویز پرآرام سے کیا جارہا ہے تاکہ جو لوگ ملبہ تلے دبے ہیں ان کو نکالا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ تاجروں کا بہت نقصان ہوا ہے۔امید ہے کہ حکومت جلد ازالہ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ میرے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں دکانداروں کے ساتھ ہوں۔اگر مجھ پر تنقید سے کسی سوشل میڈیا والے کو ویوز مل جاتے ہیں تو اچھی بات ہے ۔
انہوں نے کہا کہ میرا آر جے مال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔آر جے مال اور گل پلازہ کے مالکان الگ الگ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ گل پلازہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔