اشرافیہ کے بچوں کی شادیوں میں بھارتی ڈیزائنرز کے ملبوسات؟ خالد انعم نے اہم سوال اُٹھا دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ معروف سینئر اداکار خالد انعم نے بھارت سے تجارت سے متعلق اہم سوال اُٹھا دیا۔
حال ہی میں پاکستان میں دو شادیوں کا کافی چرچہ رہا، جن کی تصاویر و ویڈیوز نے بھی سوشل میڈیا پر خوب توجہ حاصل کی۔
ان میں سے ایک صدر آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور کی بیٹی کی شادی تھی جبکہ دوسری وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی شادی تھی۔
تالپور خاندان کی شادی اس وجہ سے خبروں میں رہی کہ اس میں عاطف اسلم، راحت فتح علی خان اور عابدہ پروین جیسے بڑے ستاروں نے پرفارم کیا جبکہ جنید صفدر کی شادی اپنی منفرد ڈریسنگ اور اسٹائلنگ کے باعث زیرِ بحث رہی، جہاں دلہن اور دولہا کے اہلِ خانہ سمیت تمام میزبانوں نے دیدہ زیب ملبوسات زیب تن کیے۔
View this post on InstagramShared post on Time
Televizia
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر یہ دعوے کیے جانے لگے کہ جنید صفدر کی دلہن شانزے علی روحیل نے مہندی اور بارات کے موقع پر بھارتی ڈیزائنرز سبیاساچی مکھرجی اور ترون تہیلیانی کے ملبوسات پہنے، اسی طرح عائشہ تالپور نے اپنی شادی پر بھارتی ڈیزائنر منیش ملہوترا کا لباس زیب تن کیا۔
حال ہی میں معروف پاکستانی اداکار خالد انعم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی پابندیوں کے باوجود اشرافیہ کی دلہنوں کے بھارتی ڈیزائنرز کے ملبوسات پہننے پر اپنی الجھن کا اظہار کیا۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’میں نے حال ہی میں سنا کہ پنجاب اور سندھ کی دو شاہانہ شادیوں میں دلہنوں نے بھارتی ڈیزائنرز کے ملبوسات پہنے۔ اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ تجارت کھلی ہونی چاہیے لیکن حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان تنازع بھی رہا اور ایک دوسرے کے خلاف بیانات بھی آئے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اب تجارت باضابطہ طور پر کھل چکی ہے؟‘
انہوں نے مزید کہا ’ممکن ہے کہ انہوں نے ایک یا دو ملبوسات ہی پہنے ہوں، میں نے منیش ملہوترا کا نام بھی سنا۔ پاکستان میں بھی شاندار ڈیزائنرز موجود ہیں۔ میں خود ڈیزائنر کپڑوں کا شوقین نہیں ہوں، مگر میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کے لیے جائز ہے؟ کیا ہم بھی یہ کپڑے خرید سکتے ہیں؟ اور یہ کس طرح خریدے گئے؟ کیا آن لائن منگوائے گئے؟ کیا ایک عام پاکستانی بھی بھارتی اشیا اس طرح خرید سکتا ہے؟‘
خالد انعم کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آیا پابندی ختم ہو چکی ہے یا یہ پابندیاں صرف عام آدمی کے لیے ہیں جبکہ چند مخصوص افراد کے لیے تجارت کی اجازت ہے۔ میں کنفیوز ہوں۔‘
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی ڈیزائنرز کے ملبوسات حال ہی میں خالد انعم کی شادی
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔