اسرائیلی فوج کے غزہ میں حملے، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
غزہ (ویب ڈیسک) اسرائیلی فوج نے اپنی بربریت جاری رکھتے ہوئے غزہ میں حملے کیے جس سے 3 صحافیوں سمیت 8 افراد شہید ہو گئے۔
غزہ کی حماس کے زیرِ انتظام سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا کہ الزہرہ کے علاقے میں ان صحافیوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، ہلاک ہونے والے صحافیوں کی شناخت محمد صلاح قشطہ، انس غنیم اور عبد الرؤف شاعت کے نام سے کی گئی ہے، بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک مصری امدادی تنظیم کے لیے کام کر رہے تھے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ’حماس سے منسلک ڈرون چلانے والے متعدد مشتبہ افراد کو نشانہ بنایا جو ان کے فوجیوں کے لیے خطرہ بن رہے تھے، اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
اس کے علاوہ بھر میں اسرائیلی توپ خانے اور فائرنگ کے نتیجے میں مزید آٹھ افراد شہید ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، ان ہلاکتوں کی تصدیق حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کی جانب سے کی گئی ہے۔
طبی عملے کے مطابق وسطی غزہ میں اسرائیلی ٹینک کی فائرنگ سے تین افراد، جن میں ایک 10 سالہ لڑکا بھی شامل ہے، شہید ہوئے، اسی طرح جنوبی علاقے خان یونس میں اسرائیلی فائرنگ سے ایک 13 سالہ لڑکا اور ایک خاتون شہید ہوئے۔
حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق 10 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک غزہ میں کم از کم 466 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسی مدت کے دوران فلسطینی مسلح گروہوں کے حملوں میں اس کے تین فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
اسرائیل نے لبنان کیخلاف ایک بار پھر جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔ الکفور قصبے میں کئی مقامات پر میزائل داغے گئے ہیں، جن میں حزب اللّٰہ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جنوبی لبنان میں یہ کارروائی حزب اللّٰہ کے ساتھ ایک سال پہلے طے کردہ جنگ بندی کے باوجود کی گئی ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق شام اور لبنان کی سرحد پر واقعہ چار کراسنگز کو نشانہ بنایا گیا ہے، اس موقع پر یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ حزب اللّٰہ ان کراسنگز کو سلحہ اسمگل کرنے کے لیے استعمال کرتی تھی تاہم اسکے شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج کو نشانہ حماس کے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔