ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے کراچی کو برباد کر دیا ہے: منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
---فائل فوٹو
امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر نے کہا ہے کہ کراچی کے میئر اور وزیرِ اعلیٰ کو سانحہ گل پلازا پر فوری استعفیٰ دینا چاہیے تھا، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے کراچی کو برباد کر دیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران منعم ظفر نے کہا کہ کے ایم سی اور صوبائی حکومت کے سارے ادارے ناکامی کی تصویر بنے ہوئے ہیں، شہر کو برباد کرنے میں پیپلز پارٹی سے زیادہ ایم کیو ایم ملوث ہے۔
انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ متاثرہ دکانداروں کو معاوضہ اور متبادل جگہ فراہم کریں، سانحہ گل پلازا میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ 18 ترمیم ہمیں مار رہی ہے، ہماری نسل کشی کررہی ہے، 18ویں ترمیم کا ڈرامہ ختم ہونا چاہیے یہ ملک کے لیے ناسور بن گئی ہے۔
منعم ظفر کا کہنا تھا کہ گل پلازا کے سانحے کو پانچواں دن ہے، 61 لاشیں نکالی گئی ہیں، اس سانحہ نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کو عیاں کر دیا ہے۔
منعم ظفر نے سوال اٹھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کہاں ہے، عمارتوں میں کوئی فائر فائٹنگ سسٹم موجود نہیں، فائر الارم نہیں، بی آر ٹی کے نام پر شہر کے لوگ دھکے کھا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کہا کہ
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔