درگاہ کی طرف اشتعال انگیز اشارہ، ہندو رہنما سمیت 7 افراد کے خلاف مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
بھارتی ریاست کرناٹک کے شہر بیلگاوی کے نواحی علاقے ماچھے گاؤں میں منعقدہ اکھنڈا ہندو سمّیلن کے دوران مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والی ہندو رہنما ہرشیت ٹھاکر سمیت 7 افراد کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس میں درج شکایت کے مطابق ہرشیت ٹھاکر اتوار کے روز اکھنڈ ہندو سمّیلن سے قبل نکالے گئے جلوس میں کھلی گاڑی میں سوار تھیں۔ جب جلوس پیراناواڈی کے قریب واقع انصاری درگاہ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے مبینہ طور پر تیر چلانے کے انداز کا ہاتھ کا اشارہ کیا۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ یہ اشارہ ’جئے شری رام‘ کے نعروں کے ساتھ کیا گیا، جس سے دوسری مذہبی برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچی اور علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا۔
یہ مقدمہ عبدالقادر مجاور نامی شہری کی شکایت پر بیلگاوی رورل پولیس نے درج کیا ہے۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے، مختلف طبقات کے درمیان نفرت پھیلانے سے متعلق دفعات کے تحت کارروائی کی ہے۔
ہرشیت ٹھاکر کے علاوہ اکھنڈا ہندو سمّیلن کے منتظمین سپریت سمپی، شری کانت کامبلے، بیٹاپا تاریہل، شیواجی شاہاپورکر، گنگارام تاریہل اور کلاپا کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایسی تقاریر کیں جو فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکا سکتی تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور شواہد کی روشنی میں آئندہ قانونی کارروائی کی جائے گی۔
علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی سیکیورٹی بھی تعینات کر دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔