بنگلا دیش میں آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات کے لیے باضابطہ انتخابی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

یہ انتخابات 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات ہیں، جس کے نتیجے میں سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی طویل اور آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔

بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے مرکزی رہنما اور وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان کی قیادت میں شمالی شہر سلہٹ میں ایک بڑے انتخابی جلسے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہزاروں کارکنوں اور حامیوں نے شرکت کی۔ مظاہرین پارٹی جھنڈے اٹھائے طارق رحمان کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔

طارق رحمان گزشتہ ماہ 17 سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئے تھے۔ وہ سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے ہیں، جو دسمبر میں 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔

دوسری جانب جماعتِ اسلامی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ آج ڈھاکا میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز کرے گی۔ جماعت کئی برسوں بعد عملی سیاست میں واپسی کی کوشش کر رہی ہے، کیونکہ شیخ حسینہ کے فرار کے بعد جماعت کے کئی رہنماؤں کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں

بنگلادیش الیکشن 2026: اقتدار کی سیاست میں نئے امکانات 

بنگلا دیش میں 12 فروری کو عام انتخابات ہوں گے، جن میں 350 ارکانِ پارلیمنٹ کا انتخاب کیا جائے گا۔ یورپی یونین کے مبصرین کے مطابق یہ عمل 2026 کا سب سے بڑا جمہوری عمل ہو سکتا ہے۔

انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ملک میں سیاسی بے یقینی، سکیورٹی خدشات اور سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کے پھیلاؤ پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کے خلاف مظاہروں کے دوران ایک طالب علم رہنما کے قتل نے حالات کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

نگراں حکومت کے سربراہ اور نوبیل انعام یافتہ محمد یونس نے کہا ہے کہ وہ ایک “تباہ شدہ سیاسی نظام” ورثے میں لے کر آئے تھے۔ انہوں نے سیاسی اصلاحات کے لیے ایک ریفرنڈم کی تجویز دی ہے، جو انتخابات کے روز ہی کرایا جائے گا۔

محمد یونس کے مطابق اگر عوام اصلاحات کے حق میں ووٹ دیتے ہیں تو “نئے بنگلا دیش” کی بنیاد رکھی جا سکے گی۔ انتخابات کے بعد وہ نگراں حکومت سے دستبردار ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ اس وقت بھارت میں روپوش ہیں، جہاں وہ مظاہرین کے دباؤ کے بعد فرار ہو گئی تھیں۔ انہیں نومبر میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے الزام میں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انتخابات کے کے بعد

پڑھیں:

استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے

سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔

دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن