بنگلادیش نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا بائیکاٹ کردیا، بھارتی میڈیا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
بنگلادیش کی حکومت نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کا بائیکاٹ کردیا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے بھارت نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بنگلادیش کے مشیر کھیل آصف نذرل نے آج بنگلادیشی کھلاڑیوں سے اہم ملاقات کی جس میں انہیں بنگلادیش حکومت کے موقف سے آگاہ کیا گیا۔
مزید پڑھیںٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: بنگلادیش کے انکار کی صورت میں پاکستان کے بھی بائیکاٹ کا امکان
اس سے قبل ذرائع سے یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ بنگلادیش کے بھارت میں کھیلنے سے انکار کی صورت میں پاکستان کی طرف سے بھی ورلڈکپ کے بائیکاٹ کیے جانے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں کے شیڈول میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے بنگلادیش کو بھارت میں کھیلنے یا ایونٹ سے باہر ہونے کا آپشن دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔