میئر کراچی اور وزیراعلیٰ سندھ کو گل پلازہ سانحے پر فوری استعفیٰ دینا چاہئیے تھا: منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو گل پلازہ سانحے پر فوری استعفیٰ دینا چاہئیے تھا۔
کراچی میں جماعت اسلامی کے امیر منعم ظفر خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ سانحے کو پانچ دن گزر جانے کے باوجود صرف 61 لاشیں نکالی جا سکیں ہیں، جس سے صوبائی حکومت کی نااہلی اور انتظامی خامیاں عیاں ہو گئی ہیں۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی کے لیے مختص 60 فائر ٹینڈرز اور پانچ اسنارکلز دستیاب ہیں، مگر فائر پروٹیکٹڈ یونیفارم اور دیگر حفاظتی سامان کہیں نظر نہیں آتا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ واقعے کے 18 گھنٹے بعد موقع پر پہنچے جبکہ میئر کراچی دوسرے روز آئے، آر جے مال، صدر اور دیگر مقامات پر لگنے والی آگ کے وقت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کہاں تھی اور عمارتوں میں فائر فائٹنگ سسٹمز اور الارمز کیوں موجود نہیں تھے۔
جماعت اسلامی کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ سانحہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین اور متاثرہ دکانداروں کو فوری معاوضہ دیا جائے اور انہیں متبادل کاروباری جگہ فراہم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ شہر کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرتے ہوئے ایک شفاف کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ نقصان کی مکمل تحقیقات ہو سکیں، جماعت اسلامی کے والینٹئرز جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور جاں بحق افراد کے بچوں کی کفالت کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
منعم ظفر خان نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو کراچی کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ شہر میں اسٹریٹ کرمنلز آزاد گھوم رہے ہیں، گزشتہ برس 45 ہزار وارداتیں ہوئیں، جبکہ شہری پانی اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی مسائل سے بھی دوچار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلدیہ فیکٹری میں 259 افراد کو جلا دیا گیا اور اس شہر کے ساتھ ہونے والے سلوک کا حساب ہر ادارے کے سامنے ہونا چاہیے، کراچی اب خاموش نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے غزہ بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ قومی مفاد کے خلاف ہے، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ سربراہ ہوں گے، پوری قوم اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے اور پاکستانی فوج کو غزہ نہیں جانا چاہیے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وفاق فوراً بورڈ سے دستبردار ہو جائے، کیونکہ یورپی ممالک نے اس میں شمولیت سے منع کیا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ یکم فروری کو “جینے دو کراچی مارچ” کا انعقاد کیا جائے گا۔
منعم ظفر خان نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں اور شہر کے مستقبل کے لیے آواز بلند کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔