گوگل پکسل فون کے ایک فیچر سے کالز لیک ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
گوگل کے پکسل فونز میں موجود ایک فیچر کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ بعض صورتوں میں صارفین کی کالز کو غیر ارادی طور پر لیک کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بس اور ٹرین پر سفر کے دوران اینڈرائیڈ فون سیٹنگز بدل دے گا، گوگل نے اہم سہولت دے دی
رپورٹس کے مطابق پکسل فون ایپ میں موجود ’ٹیک اے میسج‘ فیچر میں ایک نایاب بگ سامنے آیا ہے جس کے باعث صارف کے فون کے اردگرد کی آوازیں کال کرنے والے شخص تک پہنچ سکتی ہیں۔
یہ فیچر گزشتہ سال متعارف کروایا گیا تھا جس کا مقصد مسڈ یا مسترد کی گئی کالز کو خودکار طور پر ہینڈل کرنا ہے۔ اس فیچر کے فعال ہونے پر کال کرنے والے کو پیغام چھوڑنے کا کہا جاتا ہے جبکہ صارف کے فون پر’ٹیکنگ اے میسج‘ کی نوٹیفکیشن کے ساتھ کالر کے جواب کی ریئل ٹائم ٹرانسکرپشن دکھائی جاتی ہے۔
تاہم کم از کم 6 ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں یہ فیچر کالر کی آواز کے بجائے صارف کے فون کے اردگرد کی آوازیں ریکارڈ کرنے لگا جس سے کال کرنے والے کو یوں محسوس ہوا جیسے فون کال اٹھا لی گئی ہو۔
مزید پڑھیے: بھارت میں فون لوکیشن کی نگرانی، ایپل، گوگل اور سام سنگ نے سخت اعتراضات اٹھا دیے
اس مسئلے کی پہلی رپورٹ ستمبر 2025 میں ریڈٹ پر سامنے آئی، جہاں ایک پکسل 5 صارف نے اس بگ کی نشاندہی کی۔ بعد ازاں پکسل 10 اور پکسل 4 اے صارفین کی جانب سے بھی اسی نوعیت کی شکایات سامنے آئیں۔
متاثرہ فونز میں زیادہ تر وہ ماڈلز شامل ہیں جو اب سافٹ ویئر اپڈیٹس حاصل نہیں کر رہے۔ ماہرین کے مطابق ’ٹیک اے میسج‘ فیچر کو بند کرنا اس مسئلے کا عارضی حل ہے۔
گوگل کے ایک ترجمان نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ہماری ٹیم ان رپورٹس سے آگاہ ہے اور اس مسئلے کی فعال طور پر تحقیقات کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: گوگل پکسل فون استعمال کرنے والوں کے لیے 150 ڈالر حاصل کرنے کا موقع، مگر کیسے؟
واضح رہے کہ ’ٹیک اے میسج‘ فیچر پکسل 4 یا اس کے بعد کے ماڈلز میں امریکا، برطانیہ، آئرلینڈ اور آسٹریلیا میں دستیاب ہے اور اس میں اسپیم کال پروٹیکشن بھی شامل ہے۔
’ٹیک اے میسج‘ فیچر کو بند کرنے کا طریقہپکسل فون ایپ کھولیں، اوپر بائیں جانب موجود مینو (ہیمبرگر آئیکن) پر ٹیپ کریں، کال اسسٹ سیکشن میں جا کر ’ٹیک اے میسج‘ منتخب کریں اور فیچر کو بند کرنے کے لیے ٹوگل آف کر دیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل پکسل فون گوگل پکسل فون اور کال لیک گوگل پکسل فون کا فیچر گوگل پکسل فون کا مسئلہ گوگل فون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گوگل پکسل فون گوگل فون ٹیک اے میسج
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔