اگر مقامی حکومتیں نہیں ہوتیں تو صوبائی حکومت کے ہونے کا بھی کوئی جواز نہیں، چیف الیکشن کمشنر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
اگر مقامی حکومتیں نہیں ہوتیں تو صوبائی حکومت کے ہونے کا بھی کوئی جواز نہیں، چیف الیکشن کمشنر WhatsAppFacebookTwitter 0 22 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ اگرمقامی حکومتیں نہیں ہوتیں تو صوبائی حکومت کے ہونیکا بھی کوئی جواز نہیں بنتا،یہ انتہائی شرمندگی کی بات ہے کہ پنجاب میں دو ہزار اکیس سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے۔الیکشن کمیشن میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ سماعت کی۔
چیف الیکشن کمشنر نے اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے ہدایت دی کہ پنجاب حکومت کی کمیٹی الیکشن کمیشن کی کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کرے اور دونوں کمیٹیاں دس فروری تک اپنا کام مکمل کریں۔چیف الیکشن کمشنر نے خبردارکیا کہ اگر مقررہ ٹائم لائن پرعمل نہ ہوا تو الیکشن کمیشن معاملات اپنے ہاتھ میں لے گا،ضرورت پڑنے پر بیس فروری کو وزیر اعلی پنجاب کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے،اورہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ وزیر اعلی کو طلب کر کے یہاں بٹھانا پڑے۔سماعت کے دوران سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب نے بتایاکہ معاملہ پنجاب کابینہ کی کمیٹی میں گیا جہاں تاخیر سے نمٹایا گیا،یونین کونسلز اورٹاونزکی ڈیمارکیشن پراعتراضات دورکیے جارہے ہیں اور 26جنوری تک ڈیمارکیشن مکمل کر لی جائے گی۔
چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ بعض مجبوریوں کے باعث ایک سے سوا ماہ کی تاخیر ہوئی،جس کی بڑی وجہ اربن اوررورل علاقوں کی نشاندہی کا تنازع ہے،ہرکوئی چاہتا ہے کہ اس کا علاقہ اربن قراردیا جائے، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے مطابق بلدیاتی الیکشن رولزکو دوبارہ ڈرافٹ کرلیا گیا ہے اور الیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد انہیں نوٹیفائی کردیاجائے گا۔چیف سیکرٹری پنجاب نے مزیدبتایا کہ پہلے منظوری کا اختیاروزیراعلی کے پاس تھا،تاہم اب یہ اختیار صوبائی کابینہ کے پاس ہے،الیکشن کمیشن کو یقین دہانی کروائی گئی کہ اضلاع کی حد تک ڈیمارکیشن کے سوا تمام تیاریاں مکمل ہیں اورمزیدتاخیرنہیں ہوسکتی،الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 20 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی بل گیٹس سے ملاقات، تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی بل گیٹس سے ملاقات، تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق سی ڈی اے میں اکھاڑ پچھاڑ ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آئی سی ٹی صاحبزادہ محمد یوسف ڈائریکٹر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ تعینات زراعت اور لائیو اسٹاک کی بہتری کیلئے پاکستان کا آسٹریلوی مہارت سے استفادے کا عزم حکومت کا وفاقی پولیس کی استعداد کار بڑھانے کیلئے پاک فوج کی خدمات لینے کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف سمیت غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ممالک کے رہنماوں نے مسودے پر دستخط کردیئے پاکستانی ہائی کمشنر محمد سلیم کی کینڈین پارلیمانی رہنماوں سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیف الیکشن کمشنر الیکشن کمیشن
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔