عمر کے مختلف مراحل میں غذائی اجزا کی اہمیت: کس عمر میں کون سی خوراک مفید ہے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
یہ بات عام طور پر تسلیم شدہ ہے کہ متوازن غذا لینا صحت کے لیے بہترین اقدامات میں سے ایک ہے تاہم زندگی کے مختلف مراحل میں بعض غذائیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھاری بھرکم غذائیں کھانا دماغ پر کیا اثر ڈالتا ہے؟
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں دوسری جنگ عظیم کے دوران حکومتی خوراکی ریشننگ کا مقصد شہریوں کی غذائی ضروریات پوری کرنا تھا۔ اس دوران بچوں کو 2 سال سے کم عمر میں چینی کی کوئی مقدار نہیں دی جاتی تھی۔
بعد ازاں جب سنہ 1953 میں چینی کی ریشننگ ختم ہوئی تو بچوں کے لیے زیادہ چینی کی کھپت نے مستقبل میں ان کی صحت پر اثرات ڈالے۔
سنہ2025 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں 63,000 افراد کے میڈیکل ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا جو سنہ 1951 سے سنہ 1956 کے درمیان پیدا ہوئے تھے۔
نتائج میں ظاہر ہوا کہ جن بچوں کو پیدائش کے بعد اور ابتدائی 1,000 دنوں میں کم چینی ملی، انہیں بعد میں دل کی بیماری، ہارٹ فیلیئر اور فالج کے خطرات کم تھے۔
مزید پڑھیے: گنیز ریکارڈ یافتہ دنیا کی سب سے عمر رسیدہ خاتون نے طویل عمری کا راز بتادیا
نیوٹریشن ماہر فیڈریکا امالتی کے مطابق بچوں کی تیز نشوونما کے دوران کیلوریز کے ساتھ ساتھ وٹامنز، آئرن، آیوڈین، کیلشیم اور وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ہڈیوں، دماغ اور مدافعتی نظام کی ترقی ممکن ہو سکے۔
اس عمر میں پھل، سبزیاں، دالیں، گری دار میوے اور صحت مند چکنائیاں ضروری ہیں جبکہ الٹرا پروسیسڈ فوڈز سے پرہیز کرنا چاہیے۔
نوجوانی اور 20 کا پیٹھا: عادات اور طویل المدتی صحتنوجوانی اور 2 کی دہائی میں غذا دل اور دماغ کی صحت کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے۔
نوجوانوں کو کیلشیم، وٹامن ڈی، آئرن اور پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ میڈیٹیرینین غذا جیسے سبزیاں، دالیں، گری دار میوے، زیتون کا تیل، مچھلی اور محدود ڈیری پروڈکٹس نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت کے لیے بھی مفید ہے۔
مزید پڑھیں: کیا عمر رسیدہ افراد میں سماعت کی کمی ڈیمینشیا کا باعث بن سکتی ہے؟
اس عمر میں صحت مند غذائی عادات قلبی بیماریوں اور ذہنی مسائل کے خطرات کو کم کر سکتی ہیں۔ خواتین کے لیے فولاد سے بھرپور خوراک، جیسے سبز پتوں والی سبزیاں، بروکولی اور چنے، تولیدی صحت کے لیے اہم ہے۔
درمیانی عمر: دل، ہڈیوں اور پٹھوں کی حفاظتدرمیانی عمر میں خواتین کے لیے مینوپاز کے بعد ہڈیوں اور پٹھوں کے نقصان، وزن میں اضافہ اور دل کی بیماری کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
پروفیسر ایلیزبتھ ولیمز کے مطابق اس عمر میں دل کی صحت اور ہڈی و پٹھوں کی مضبوطی پر فوکس کرنا ضروری ہے۔ اومیگا 3 فیٹس (میکرل، سالمن) اور مناسب پروٹین کا استعمال ان خطرات کو کم کرتا ہے۔
بڑھاپا: کم کیلوریز، زیادہ غذائی معیاربڑھاپے میں توانائی کی ضروریات کم ہو جاتی ہیں لیکن کیلشیم، وٹامن ڈی اور پروٹین کی مقدار بڑھانا ضروری ہے تاکہ ہڈیوں اور پٹھوں کی مضبوطی برقرار رہے۔
یہ بھی پڑھیے: 70 سال کی عمر میں پہلا وی لاگ، چند گھنٹوں میں 22 ملین ویوز نے سب کو حیران کردیا
ڈائٹیشین جین مرفی کے مطابق بڑھاپے میں پٹھوں کے نقصان کو روکنے کے لیے معیاری پروٹین لینا بہت اہم ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ غذائی توازن میں کاربوہائیڈریٹس، صحتمند چکنائیاں اور وٹامنز بھی شامل ہونے چاہییں۔
آنتوں کے بیکٹیریا اور ذہنی صحتجیسے جیسے ہم عمر رسیدہ ہوتے ہیں آنتوں میں فائدہ مند بیکٹیریا کم اور نقصان دہ بیکٹیریا بڑھ جاتے ہیں جس سے الزائمر، فالج اور دل کی بیماری کے خطرات بڑھتے ہیں۔
کلینیکل لیکچرر مری نی لوکلائن کے مطابق طویل عمر پانے والے افراد میں متنوع اور صحت مند مائکرو بایوم ہوتا ہے جس سے صحت بہتر رہتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ فائبر اور پولی فینولز سے بھرپور غذا آنتوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
سپلیمنٹس اور اضافی مددبڑھاپے میں پری بایوٹک سپلیمنٹس اور فروکٹوس دماغی صحت اور یادداشت بہتر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
وٹامن ڈی سپلیمنٹس خاص طور پر بزرگوں اور نرسنگ ہوم کے رہائشیوں کے لیے فائدہ مند ہیں۔
مزید پڑھیں: حاملہ خواتین کو سحری اور افطاری میں کونسی غذائیں کھانی چاہییں؟
الغرض عمر کے مختلف مراحل میں خوراک کی نوعیت اور مقدار بدلتی رہتی ہے لیکن متوازن، سبزیوں سے بھرپور، پروٹین اور وٹامنز والی غذا صحت مند بڑھاپے، دل کی صحت، ہڈیوں اور دماغ کی مضبوطی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عمر رسیدہ افراد کی غذائیں غذائیں کس عمر میں کونسی غذا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عمر رسیدہ افراد کی غذائیں کس عمر میں کونسی غذا صحت کے لیے ہڈیوں اور وٹامن ڈی کے خطرات کے مطابق کی صحت
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔