چین کے یونان صوبے کے ایک اسپتال میں ہر سال ڈاکٹروں کو ایک عجیب و غریب مسئلے کے ساتھ مریضوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ مریض یہ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں چھلاوے نما چھوٹے انسان نظر آتے ہیں جو دروازوں کے نیچے رینگتے، دیواروں پر چڑھتے اور فرنیچر پر جمے ہوئے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملبرن، سسرالیوں کو زہریلے مشروم کھلا کر قتل کرنے والی خاتون کو 3 بار عمر قید کی سزا

لینماوا آسیٹیکا نامی مشروم۔

بی بی سی کے مطابق اسپتال میں ہر سال سیکڑوں ایسے کیسز آتے ہیں اور سب کا مشترکہ سبب ہے لینماوا آسیٹیکا نامی مشروم جو پائن کے درختوں کے ساتھ جڑا ہوتا ہے اور یونان میں ایک مقبول خوراک کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

یہ مشروم عام طور پر مارکیٹوں، ریستورانوں اور گھروں میں جون سے اگست کے درمیان دستیاب ہوتا ہے اور لوگ اس کو رغبت سے کھاتے ہیں۔

ہیلوسینیشن سے بچنے کے لیے پکا کر کھائیں

یہ مشروم اگر اچھی طرح نہ پکایا جائے تو چھوٹے انسانوں کے ہیلوسینیشنز پیدا ہو جاتے ہیں۔

یونیورسٹی آف یوٹاہ کے بایولوجی کے ڈاکٹورل طالب علم کولن ڈومناور کے مطابق ریسٹورنٹ میں سرور نے 15 منٹ کا ٹائمر لگایا اور خبردار کیا کہ ٹائمر ختم ہونے سے پہلے نہ کھائیں ورنہ چھوٹے لوگ دکھائی دیں گے۔

تاریخی حوالہ جات اور عالمی مشاہدات

سنہ1960 کی دہائی میں امریکی مصنف گورڈن واسن اور فرانسیسی نباتات دان راجر ہیم نے پاپوا نیو گنی میں اسی طرح کے مشاہدات کیے تھے جنہیں بعد میں ‘مشروم کی دیوانگی’ کہا گیا۔

مزید پڑھیے: مشروم کی کاشت سے لاکھوں روپے کیسے کمائے جاسکتے ہیں؟

سنہ1991  میں چینی سائنسدانوں نے پہلی بار ایل ایشیاٹیکا کھانے والے افراد میں ہیلوسینیشن کی رپورٹ دی۔ مریضوں نے بتایا کہ یہ چھوٹے ہیلوسینیشنز ان کے کپڑوں، برتنوں اور کھانے کے دوران بھی نظر آتے تھے اور آنکھیں بند کرنے پر یہ مزید واضح ہو جاتے تھے۔

ڈومناور کی تحقیق

ڈومناور نے سنہ 2023 میں یونان کا دورہ کیا اور مارکیٹ سے وہ مشروم خریدا جو چھوٹے لوگ دکھاتا ہے۔ لیبارٹری میں جینیاتی ٹیسٹ سے ایل ایشیاٹیکا کی شناخت ہوئی اور چوہوں پر کیے گئے تجربات میں وہی رویہ ظاہر ہوا جو انسانی ہیلوسینیشنز میں دیکھا گیا۔ چوہے ابتدا میں زیادہ متحرک اور بعد میں طویل مدتی سست روی کا شکار ہوئے۔

مزید پڑھیں: دیر کے جنگلات سے ملنے والا قدرتی مشروم اتنا مہنگا کیوں فروخت ہوتا ہے؟

لینماوا آسیٹیکا۔

فلپائن میں بھی اسی طرح کے مشروم ملے، جو چینی مشروم سے کچھ چھوٹے اور ہلکے گلابی تھے، لیکن جینیاتی ٹیسٹ نے ثابت کیا کہ یہ بھی وہی نسل ہیں۔

ایک انوکھی خصوصیت

ڈومناور کے مطابق، ایل ایشیاٹیکا کے ہیلوسینیشنز بہت مستقل اور بار بار دہرائے جانے والے ہیں جو کسی اور معروف سائیکڈیلیک مشروم میں نہیں دیکھا جاتا۔ یہ ہیلوسینیشنز عام طور پر 12 سے 24 گھنٹے تک رہتی ہیں اور بعض کیسز میں مریضوں کو ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے۔

ممکنہ سائنسی فوائد

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مشروم کے مطالعے سے دماغ میں لِلِپُوٹین ہیلوسینیشنز کی وجوہات کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے اور مستقبل میں نئے علاج یا دوائیں دریافت ہو سکتی ہیں۔

فنگائی کی دنیائے حیرت انگیز دریافتیں

ماہر فنگائی جولیانا فرچی کہتی ہیں کہ دنیا کی صرف 5 فیصد فنگائی کی اقسام دریافت ہو چکی ہیں اور ایل ایشیاٹیکا جیسی تحقیقات سے یہ پتا چلتا ہے کہ فنگائی میں اب بھی بے پناہ بایو کیمیکل اور فارماکولوجیکل امکانات موجود ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انسان نما مشروم مشروم مشروم سے واہمہ ہیلوشینیشن واہمہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: مشروم سے واہمہ ہیلوشینیشن واہمہ ہوتا ہے

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین