City 42:
2026-07-24@01:48:20 GMT

وفاقی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

بابر شہزاد تُرک: وفاقی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے کئے گئے ہیں، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت دفاع ایئر وائس مارشل ناصر خٹک سبکدوش ہو گئے ہیں اور ان کی جگہ ایئروائس مارشل یاسر سلیم ایڈیشنل سیکرٹری، وزارت دفاع تعینات کئے گئے ہیں، تعیناتی سیکنڈمنٹ کی بنیاد پر مروجہ قواعد و ضوابط کے مطابق کی گئی ہے۔

 دریں اثناء وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز میں افسران کے تقرر و تبادلوں کے جاری کردہ احکامات کے مطابق سیکشن افسر ماریہ گل کا نیشنل سیکیورٹی ڈویژن سے کابینہ ڈویژن، سیکشن افسر اسداللہ کا اوورسیز پاکستانیز ڈویژن سے کابینہ ڈویژن، سیکشن افسر ماریہ اظہر کا کابینہ ڈویژن سے اقتصادی امور ڈویژن اور سیکشن افسر آمنہ فاروق کا کابینہ ڈویژن سے وزارت موسمیاتی تبدیلی تبادلہ کیا گیا ہے۔ 

مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی

  مزید برآں تقرر کے منتظر اسد علی سیکشن افسر آبی وسائل ڈویژن تعینات کئے گئے ہیں، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تقرر و تبادلوں کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: کابینہ ڈویژن سیکشن افسر ڈویژن سے گئے ہیں

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن