اے آئی پاور روبوٹس کی حیرت انگیز صلاحیتوں سے متعلق رپورٹ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹس اب محض تصور نہیں رہے بلکہ ہماری روزمرہ زندگی میں مختلف کام انجام دینے لگے ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں ایک گیس اسٹیشن پر ان روبوٹس کا تجربہ کیا جا رہا ہے، جہاں یہ گاڑیوں کو فیول فراہم کرنے کے قابل ہیں۔ اسی طرح، خود کار ٹیکسی سروسز بھی حقیقت بنتی جا رہی ہیں، اور ویمو اور ٹیسلا جیسی کمپنیاں پہلے ہی امریکا میں ابتدائی طور پر خود کار ٹیکسیوں کی خدمات متعارف کرا چکی ہیں۔
جدید رپورٹ کے مطابق کاواساکی کمپنی نے ایک ایسا روبوٹ پیش کیا ہے جو سال 2050 تک نہ صرف سڑکوں بلکہ مشکل اور جنگلی راستوں پر دوڑنے اور چلنے کے قابل ہوگا۔ یہ چار پیروں والا روبوٹ خاص طور پر دور دراز پہاڑی علاقوں اور پتھریلی چٹانوں جیسے مقامات کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جہاں عام گاڑی کا پہنچنا ممکن نہیں۔
مستقبل میں یہ روبوٹس صرف زمین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ فضاؤں میں بھی پرواز کرنے لگیں گے۔ اس سلسلے میں ایک خود کار روبو ٹیکسی تیار کی جا رہی ہے جو ابتدائی طور پر امریکا اور جاپان کے شہروں میں اوبر کی طرح بک کی جا سکے گی، اور توقع ہے کہ یہ سہولت 2030 تک دستیاب ہوگی۔
اے آئی روبوٹس ایسی مشینیں ہیں جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانی ذہانت کے متقاضی کام انجام دے سکتی ہیں۔ یہ روبوٹس تجربے سے سیکھ سکتے ہیں، نئے ڈیٹا کے مطابق خود کو ڈھال سکتے ہیں اور بغیر براہِ راست انسانی مداخلت کے پیچیدہ کام انجام دے سکتے ہیں۔
صنعتوں میں ان کی موجودگی انقلاب برپا کر رہی ہے، چاہے وہ آٹومیٹک گاڑیوں کی صورت ہو یا کسٹمر سروس بوٹس کی شکل۔ صحت کے شعبے میں بھی اے آئی روبوٹس سرجری میں مدد، مریضوں کے ڈیٹا کا انتظام اور بزرگ مریضوں کو صحبت فراہم کرنے کے قابل ہیں، جو انسانی زندگیوں میں آسانی اور مؤثریت لے کر آ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔