data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیویارک: دنیا بھر کے کئی بڑے ہوٹلوں میں ایک عجیب اور پریشان کن ٹرینڈ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جہاں باتھ روم کے روایتی دروازے ختم کیے جا رہے ہیں۔ ٹھوس دروازوں کی جگہ اب سلائیڈنگ دروازے، پردے، یا حتیٰ کہ شیشے کے کیوبیکل استعمال کیے جا رہے ہیں، جس پر مہمانوں کی بڑی تعداد شدید ناپسندیدگی کا اظہار کر رہی ہے۔

دی وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق آج کل بہت سے ہوٹلوں میں مہمان جب کمرے میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں مکمل بند ہونے والا مضبوط دروازہ نہیں ملتا۔اس کی جگہ سلائیڈنگ لکڑی کے دروازے، شیشے کے پینل، پردے یا آدھی دیواریں لگا دی گئی ہیں، جو نہ آواز روک پاتی ہیں اور نہ ہی بدبو۔کچھ ہوٹلوں نے تو حد ہی کر دی ہے، جہاں سنک اور شاور بیڈروم میں کھلے عام رکھے گئے ہیں اور ٹوائلٹ کو شیشے کے ایک ڈبے میں بند کر دیا گیا ہے۔اس رجحان نے ان مسافروں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے جو سفر کے دوران سکون، پرائیویسی اور خاموشی کے خواہاں ہوتے ہیں۔

ہوٹل میں آنے والے مہمانوں کا کہنا ہے کہ ایسے کمروں میں قیام کسی آزمائش سے کم نہیں، خاص طور پر جب وہ شریکِ حیات، دوست یا دفتر کے ساتھی کے ساتھ کمرہ شیئر کر رہے ہوں۔لندن کے مختلف ہوٹلوں میں قیام کے دوران اسی قسم کے تجربات سے برہم سَیڈی لوویل نے ”Bring Back Doors“ نامی ویب سائٹ بنائی ہے، جہاں مختلف ہوٹلوں کو باتھ روم کی پرائیویسی کے حساب سے ریٹنگ دی جاتی ہے۔اس ویب سائٹ پر ہوٹلوں کو ”مکمل دروازہ موجود ہے“ سے لے کر ”زیرو پرائیویسی“ تک درج کیا جاتا ہے۔

سَیڈی لوویل کا کہنا ہے کہ باتھ روم کا دروازہ کوئی لگژری نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے اور اسے ختم کرنا مہمانوں کی نجی زندگی پر حملہ ہے۔دوسری جانب ہوٹل مالکان اس تبدیلی کو جدید ڈیزائن اور کم لاگت کے نام پر درست قرار دیتے ہیں، کیونکہ دروازے، قبضے اور تالے دیکھ بھال کے اخراجات بڑھاتے ہیں۔تاہم لوگ اس منطق سے متفق نہیں اور سوشل میڈیا پر کھل کر اپنی ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں۔

بہت سے مسافروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو ہوٹل بک کرتے وقت سب سے پہلا سوال یہی ہوگا کہ کیا باتھ روم کا دروازہ ہے یا نہیں؟سوال اب یہ ہے کہ کیا ہوٹل مالکان مہمانوں کی آواز سنیں گے یا پھر آنے والے دنوں میں ہوٹل میں قیام کے ساتھ آئینہ، کانوں کے پلگ اور آنکھوں پر پٹی بھی لازمی سامان میں شامل ہو جائیں گے؟۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: باتھ روم

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف