امن کے دعوے، عالمی سیاست کا دہرا معیار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
ڈیووس میں جمعرات کے روز غزہ بورڈ آف پیس معاہدے پر دستخط کی تقریب ہوئی ، اس موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سمیت مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر نے بھی معاہدے پر دستخط کیے۔ دوسری جانب غزہ پر اسرائیلی حملے میں تین صحافیوں سمیت 11فلسطینی شہید ہوگئے ۔ اسرائیل نے خوراک، طبی امداد اور پناہ گاہ کا داخلہ محدود کر رکھا ہے، 22 لاکھ افراد کو شدید سردی میں انسانی بحران کا سامنا ہے۔
عالمی سیاست کے افق پر اس وقت جو منظرنامہ ابھر رہا ہے وہ نہایت پیچیدہ، تضادات سے بھرپور اور مستقبل کے لیے کئی سوالات کو جنم دینے والا ہے۔ طاقتور ممالک امن کے دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں، عالمی فورمز پر امن، استحکام اور تعاون کی باتیں ہوتی ہیں، مگر زمینی حقائق ان دعوؤں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس کے قیام اور اس میں پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر جیسے اہم ممالک کی شمولیت کو بظاہر عالمی امن کی ایک نئی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے تقریب سے ایک روز قبل مشترکہ اعلامیے کے ذریعے تقریب میں شرکت کی دعوت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اپنی اپنی آئینی و قانونی حدود کے مطابق شمولیتی دستاویزات پر دستخط کریں گے اور بورڈ آف پیس کے مشن کے نفاذ میں مکمل تعاون کریں گے۔ غزہ کے بارے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سفارتی سطح پر یقیناً اہم ہے، تاہم اس کے اثرات اور نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا یہ بورڈ واقعی غیر جانبدار، منصفانہ اور عملی اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ عالمی امن کے نام پر قائم کیے جانے والے کئی ادارے اور فورمز طاقتور ممالک کے مفادات کے تحفظ کا ذریعہ بنے، جب کہ کمزور اقوام کے مسائل وہیں کے وہیں رہے۔
یہی خدشہ آج ایک بار پھر سر اٹھاتا دکھائی دیتا ہے، خصوصاً جب غزہ، ایران اور مشرق وسطیٰ کے دیگر تنازعات کو دیکھا جائے۔ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امن کی کوششوں کی حمایت کے بیانات اپنی جگہ، مگر ان کے ساتھ ساتھ دی جانے والی دھمکیاں، پابندیاں اور فوجی کارروائیوں کے عندیے عالمی امن کے تصور کو کمزور کرتے ہیں۔ غزہ کے معاملے میں امریکا کا کردار اس تضاد کی واضح مثال ہے، جہاں ایک طرف امن کے بورڈ اور عالمی معاہدوں کی بات کی جا رہی ہے، اور دوسری طرف اسرائیل کو بلا مشروط حمایت حاصل ہے، جس کے نتیجے میں فلسطینی عوام مسلسل جان و مال کے نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔
غزہ میں اسرائیلی حملے، جن میں اگلے روز تین صحافیوں سمیت گیارہ فلسطینی شہید ہوئے، عالمی ضمیر کے لیے ایک اور امتحان ہیں۔ صحافیوں کو نشانہ بنانا صرف انسانی جانوں کا ضیاع نہیں بلکہ سچ کو دبانے کی کوشش بھی ہے، وہ صحافی جو امدادی سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دے رہے تھے، ایک مہاجر کیمپ کے قریب اپنی گاڑی میں نشانہ بنے اور گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غزہ میں نہ صرف عام شہری بلکہ وہ لوگ بھی محفوظ نہیں جو دنیا کو حقائق دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود عالمی طاقتوں کی جانب سے محض رسمی بیانات اور تشویش کے اظہار سے آگے کوئی مؤثر قدم نظر نہیں آتا۔
غزہ میں خوراک، طبی امداد اور پناہ گاہوں کی رسائی پر سخت پابندیاں عائد ہیں، جس کے باعث بائیس لاکھ سے زائد افراد شدید سردی، بھوک اور بیماریوں کا شکار ہیں۔ بچے، خواتین اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی انسانی اقدار کے حامل معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہونی چاہیے، مگر افسوس کہ عالمی سیاست میں انسانی جانوں کی قدر کا تعین اکثر مفادات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، اگر بورڈ آف پیس واقعی امن کا ضامن بننا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے غزہ میں فوری جنگ بندی، محاصرہ ختم کرنے اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔
اسی طرح صدر ٹرمپ کی جانب سے حماس کو دی جانے والی سخت دھمکیاں بھی اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ امریکا تنازعے کو یکطرفہ زاویے سے دیکھ رہا ہے۔ حماس سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ اور یہ کہنا کہ اگر اس نے اپنے وعدے کو پورا نہ کیا تو اسے تیزی سے ختم کردیا جائے گا، مسئلے کے بنیادی اسباب کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ فلسطینی عوام کی جدوجہد کو محض ایک عسکری تنظیم تک محدود کرنا تاریخ اور حقیقت دونوں سے لاعلمی کی عکاسی کرتا ہے۔ امن کا راستہ صرف ہتھیار ڈالنے سے نہیں بلکہ انصاف پر مبنی سیاسی حل سے نکلتا ہے، جس میں فلسطینیوں کے بنیادی حقوق، آزاد ریاست اور باوقار زندگی کی ضمانت شامل ہو۔
عالمی سیاست میں ایک اور اہم تبدیلی یورپ میں دیکھنے کو مل رہی ہے، جہاں امریکا کے دیرینہ اتحادی اب خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ ڈنمارک، جو دہائیوں تک امریکا کا سب سے وفادار یورپی اتحادی رہا، آج صدر ٹرمپ کی پالیسیوں سے نالاں نظر آتا ہے۔ گرین لینڈ کو اپنے کنٹرول میں لینے کی دھمکیاں اور تجارتی پابندیاں ڈنمارک کے عوام اور قیادت کے لیے ایک صدمے سے کم نہیں۔ حالیہ سروے کے مطابق ایک بڑی تعداد امریکا کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے اور یورپ پر انحصار بڑھانے کی حامی ہے۔
یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ امریکا کی جارحانہ اور خود غرضانہ پالیسیاں اس کے اتحادیوں کے اعتماد کو بھی متزلزل کر رہی ہیں۔ یہ تمام حالات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی نظام ایک تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ طاقت کا توازن بتدریج بدل رہا ہے، نئی صف بندیاں بن رہی ہیں اور پرانے اتحاد کمزور پڑ رہے ہیں۔ ایسے میں بورڈ آف پیس جیسے فورمز کی کامیابی کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ آیا وہ واقعی کثیر الجہتی تعاون، باہمی احترام اور انصاف کے اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں یا نہیں۔ اگر یہ بورڈ محض طاقتور ممالک کے فیصلوں کی توثیق تک محدود رہا تو اس سے نہ صرف اس کی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ عالمی امن کے امکانات بھی مزید دھندلا جائیں گے۔
پاکستان کے لیے اس بورڈ میں شمولیت ایک اہم موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ پاکستان نے ہمیشہ عالمی امن، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اس کا کردار دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان بورڈ آف پیس میں اپنی آواز مؤثر انداز میں استعمال کرے اور فلسطین، کشمیر اور دیگر مظلوم اقوام کے حق میں اصولی مؤقف اختیار کرے۔ محض رسمی شمولیت یا خاموش تائید پاکستان کے تاریخی کردار اور عوامی جذبات کے منافی ہوگی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی امن کا تصور اس وقت تک ادھورا رہے گا جب تک انسانی حقوق کو سیاست سے بالاتر نہیں رکھا جاتا۔ غزہ میں بچوں کی لاشیں، ایران پر پابندیوں سے متاثر عام شہری، یا یورپ میں عدم تحفظ کا شکار ممالک سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ عالمی نظام میں انصاف کا فقدان ہے۔ بورڈ آف پیس کے قیام سے امیدیں باندھی جا رہی ہیں، مگر ان امیدوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے طاقتور ممالک کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
صدر ٹرمپ کے بیانات میں بار بار یہ دعویٰ سننے کو ملتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو چکا ہے اور صرف چند چھوٹے مسائل باقی ہیں، مگر یہ بیانات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ امن محض جنگ کے نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ انصاف، خوشحالی اور انسانی وقار کی موجودگی کا نام ہے۔ جب تک فلسطینی اپنے گھروں میں محفوظ نہیں، جب تک ان کے بچوں کو تعلیم اور صحت کی سہولیات میسر نہیں، اور جب تک ان کی ریاست تسلیم نہیں کی جاتی، امن کے دعوے محض الفاظ ہی رہیں گے۔
عالمی برادری کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے زور پر مسلط کیا گیا امن دیرپا نہیں ہوتا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جبر، پابندیاں اور دھمکیاں وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہیں، مگر دلوں میں موجود زخموں کو بھر نہیں سکتیں۔ حقیقی امن کے لیے مکالمہ، مفاہمت اور انصاف ناگزیر ہیں۔ آخرکار یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا دنیا واقعی امن چاہتی ہے یا صرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے امن کا نعرہ استعمال کر رہی ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامہ اس تضاد کو بے نقاب کرتا ہے۔
ایک طرف امن کے بورڈ، دستخطی تقاریب اور عالمی اجلاس، دوسری طرف جنگ، بمباری، پابندیاں اور انسانی المیے۔ اگر عالمی قیادت نے اس تضاد کو ختم نہ کیا تو نہ صرف بورڈ آف پیس ناکام ہوگا بلکہ دنیا مزید عدم استحکام، تصادم اور انسانی المیوں کی طرف بڑھتی چلی جائے گی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ الفاظ کو عمل میں بدلا جائے، طاقت کے بجائے انصاف کو فوقیت دی جائے اور عالمی امن کو واقعی ایک مشترکہ مقصد بنایا جائے، ورنہ تاریخ ایک بار پھر یہی لکھے گی کہ امن کے نام پر بہت کچھ کہا گیا، مگر کیا کچھ نہ گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: طاقتور ممالک عالمی سیاست بورڈ ا ف پیس اور انسانی عالمی امن اس بات کی کہ عالمی رہے ہیں ٹرمپ کی امن کا امن کے کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
ناتمام (آخری قسط)
ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘
’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘
مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔
ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘
پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"
پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔
بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘
کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔
پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔
الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔
کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔
’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘
ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔