امریکا نے غزہ پیس بورڈ کے بعد’نیوغزہ’ کا منصوبہ پیش کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا نے غزہ پیس بورڈ کے اعلان کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے بھی ایک منصوبہ پیش کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ پیس بورڈ کے اجرا کے بعد ان کے داماد جیرڈ کشنر نے سوئٹزرلینڈ میں عالمی اقتصادی فورم کے دوران غزہ کی تعمیرِ نو کا منصوبہ ’نیو غزہ‘ پیش کیا۔
کشنر کے مطابق دو سالہ جنگ کے دوران تقریباً 90 ہزار ٹن گولہ بارود استعمال ہوا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے اور غزہ میں 60 ملین ٹن سے زائد ملبہ جمع ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو کا آغاز کیا جائے گا۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق جیرڈ کشنر کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تمام اقدامات غزہ کے عوام کے مفاد میں ہوں گے۔ منصوبے کے تحت غزہ کو مختلف زونز میں تقسیم کیا جائے گا اور تعمیر نو کا آغاز رفح سے کیا جائے گا، جہاں مزدوروں کے لیے رہائشی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ملبہ ہٹانے کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور اس کے بعد ایک نیا، ترقی یافتہ غزہ سامنے آئے گا جہاں صنعتوں کے قیام سے نئی امید جنم لے گی۔
کشنر نے ایک سلائیڈ شو کے ذریعے ’نیو غزہ‘ کا ماسٹر پلان بھی پیش کیا، جس میں رہائشی علاقوں، ڈیٹا سینٹرز اور صنعتی پارکس کے لیے مخصوص زونز دکھائے گئے۔ سلائیڈز میں بحیرۂ روم کے ساحل پر دبئی یا سنگاپور طرز کے بلند و بالا جدید ٹاورز کی جھلک بھی شامل تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے ہفتوں میں واشنگٹن میں ایک کانفرنس منعقد کی جائے گی، جہاں نجی شعبے کی جانب سے ممکنہ عطیات کا اعلان کیا جائے گا۔
تاہم خبر ایجنسی کے مطابق امریکی منصوبے میں کئی اہم امور واضح نہیں کیے گئے، جن میں جائیداد کے حقوق، جنگ کے دوران اپنے گھر، کاروبار اور روزگار سے محروم ہونے والے فلسطینیوں کو معاوضہ، اور تعمیر نو کے دوران بے گھر ہونے والے افراد کی عارضی رہائش جیسے بنیادی سوالات شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیا جائے گا کے دوران کے مطابق کے بعد
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔