مودی کا یونین ٹیریٹری ماڈل ناکام ہوچکا ہے، ہمیں باوقار جمہوریت کی ضرورت ہے، سجاد کرگلی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
کارگل ڈیموکریٹک الائنس کے کنوینر نے کہا کہ ہم جس چیز کا مطالبہ کرنے جا رہے ہیں وہ ایک باوقار اور قابل احترام جمہوری نظام ہے، اگر وہ جمہوری سیٹ اپ عوام کو قابل قبول ہو تو ہم اس سے اتفاق کرسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مودی حکومت نے 4 فروری 2025ء کو لداخ کی سرکردہ تنظیموں کے ساتھ بات چیت کے لئے وزارت داخلہ میں ایک بیٹھک بلائی ہے۔ یہ بیٹھک ایسے وقت میں ہورہی ہے، جب ستمبر 2025ء میں ہونے والے تشدد، گرفتاریوں اور طویل احتجاجی مظاہروں کے بعد لداخ میں سیاسی ماحول انتہائی حساس ہے۔ اس سے پہلے 6 اکتوبر کو بلائی گئی بیٹھک سے لیہہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے دوری بنالی تھی۔ اب دونوں تنظیموں نے ایک مشترکہ مسودے کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ بیٹھک، اس سے متعلق شرائط، مطالبات اور لداخ کے مستقبل کے حوالے سے "دی وائر" نے کارگل ڈیموکریٹک الائنس کے کنوینر سجاد کرگلی سے تفصیل سے بات چیت کی ہے۔
سجاد کرگلی نے کہا کہ 24 ستمبر 2025ء کے بعد لداخ میں حالات ایسے نہیں تھے کہ بات چیت کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ چار بے گناہ لوگوں کی جان گئی تھی، 70 سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور کئی لوگ شدید زخمی ہوئے۔ ایسے ماحول میں ہم نے مودی حکومت سے پہلے جوڈیشل انکوائری شروع کرنے کی درخواست کی تھی، اب حالات بدلے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو ضمانت مل چکی ہے، صرف تین لوگ جیل میں ہیں۔ عدالتی تحقیقات بھی تقریباً مکمل ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ 22 اکتوبر کو وزارت داخلہ کی ایک ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا، جس میں ہم نے شرکت کی تھی۔
سجاد کرگلی نے کہا کہ اس کے علاوہ متعدد دیگر مسائل بھی ہیں، جیسے سونم وانگچک کی گرفتاری، 24 ستمبر کو زخمی ہونے والوں کے لئے معاوضہ اور جو لوگ ضمانت پر رہا کئے گئے ہیں ان کے لئے غیر مشروط رہائی کی بات کر رہے ہیں، ان کے خلاف الزامات واپس لئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ تمام مسائل ہیں جنہیں ہم مذاکرات کے دوران اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مودی حکومت ریاست کا درجہ دینے سے انکار کرتی ہے اور آرٹیکل 371 جیسا متبادل تجویز کرتی ہے تو کیا یہ قابل قبول ہوگا۔ سجاد کرگلی نے کہا کہ سیدھی سی بات ہے کہ ہم جس چیز کا مطالبہ کرنے جا رہے ہیں وہ ایک باوقار اور قابل احترام جمہوری نظام ہے، اگر وہ جمہوری سیٹ اپ عوام کو قابل قبول ہو تو ہم اس سے اتفاق کر سکتے ہیں۔
سجاد کرگلی نے کہا کہ ہم لداخ کے لئے الگ ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں، جموں و کشمیر کے ساتھ اسٹیٹ ہڈ کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں، صرف جموں کے ساتھ بھی نہیں، یہ صاف رہنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا "ہمارا ماننا ہے کہ حکومت لداخ جیسے خطے کو سنبھالنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ یوٹی (یونین ٹیریٹری) سیٹ اپ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ 1947ء کے بعد سے لداخ میں کبھی اتنا وسیع تشدد دیکھنے میں نہیں آیا اور نہ ہی اتنے زیادہ احتجاج ہوئے"۔ سجاد کرگلی نے کہا کہ لداخ کے لوگوں کو لیہہ سے دہلی تک مارچ کرنا پڑا۔ یونین ٹیریٹری کا آئیڈیا مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، یہ ایک نو آبادیاتی تصور ہے۔
سجاد کرگلی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آگے اور تقسیم کی طرف بڑھنے کے بجائے ایک جامع اور پرامن ماحول کو فروغ دینا بہتر ہے جو وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کرے اور ہر علاقے اور ہر طبقے کے لوگوں کو جمہوریت کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ یہی ایک بہترین حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی تشکیل شدہ تنظیم نسبتاً نئی ہے، غیر رجسٹرڈ ہے اور اس کی مقبولیت کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لداخ کے ہر علاقے میں متعدد تنظیمیں ہیں، تاہم وسیع تر عوامی جذبات کی نمائندگی لیہہ اپیکس باڈی ہی کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کا مطالبہ کر کر رہے ہیں لوگوں کو لداخ کے کے ساتھ کے لئے
پڑھیں:
صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے اٹلی کے صدر سرجیو میتاریلا اور اٹلی کے عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔(جاری ہے)
منگل کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو کہ باہمی اعتماد، تعاون اور امن و خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔
انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں یہ دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بین الاقوامی تعاون، مذاکرات اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے یورپی یونین میں اٹلی کے تعمیری کردار کو انتہائی سراہتا ہے۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔