ڈھاکا میں ماریا بی آؤٹ لیٹ کا افتتاح، بنگلہ دیش میں داخل ہونے والی پہلی بین الاقوامی خواتین فیشن برانڈ قرار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
پاکستانی فیشن لیبل ماریا بی نے اس ہفتے ڈھاکا میں اپنی پہلی برانچ قائم کر کے بنگلہ دیش میں باضابطہ طور پر قدم رکھ دیا ہے، جس کے ساتھ ہی وہ بنگلہ دیش میں موجود پہلی بین الاقوامی خواتین ملبوسات کی برانڈ بن گئی ہے۔
یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ بنگلہ دیش دنیا کا چین کے بعد دوسرا بڑا گارمنٹس ایکسپورٹر ہونے کے باوجود غیر ملکی فیشن ریٹیل برانڈز کی کمی کا شکار رہا ہے۔ بنگلہ دیش عالمی سطح پر ایچ اینڈ ایم، زارا اور یونیکلو جیسے بڑے برانڈز کے لیے ریڈی میڈ گارمنٹس تیار کرتا ہے، تاہم ان برانڈز کے باقاعدہ آؤٹ لیٹس ملک میں موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: فیشن، نفاست اور سردی سے بچاؤ شال کا خاصہ، لیکن یہ والی اتنی مہنگی کیوں؟
ان کی مصنوعات عموماً فیکٹری کے بچ جانے والے اسٹاک کے طور پر مقامی مارکیٹ میں دستیاب ہوتی ہیں۔ ایسے میں ماریا بی کا ڈھاکا میں آؤٹ لیٹ کھلنا بنگلہ دیشی فیشن مارکیٹ کے لیے ایک نئی اور نمایاں پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں اس سے قبل صرف پاکستانی برانڈ جے ڈاٹ کی موجودگی تھی، جو معروف گلوکار و تاجر مرحوم جنید جمشید کا قائم کردہ فیملی کلوتھنگ لیبل ہے۔
بنگلہ دیشی فیشن ڈیزائنر اور مقامی برانڈ کے مالک شہریار امین کا کہنا ہے کہ ماریا بی جیسے معروف بین الاقوامی برانڈ کا بنگلہ دیشی مارکیٹ کو تسلیم کرنا خوش آئند ہے، کیونکہ اس سے مقامی فیشن انڈسٹری کی ساکھ بہتر ہوگی۔ ان کے مطابق فیشن اب ایک عالمی رجحان بن چکا ہے اور موبائل فون کے ذریعے دنیا بھر کے فیشن ٹرینڈز تک رسائی ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اونچی ہیل کا فیشن: شخصیت کا نکھار یا جسمانی نقصان ؟
فیشن ڈیزائن کونسل آف بنگلہ دیش کی صدر ماہین خان نے بھی اس اقدام کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈھاکا ایک عالمی شہر ہے اور یہاں عالمی ماحول کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ایک معروف پاکستانی فیشن برانڈ کا بنگلہ دیش میں باقاعدہ آغاز ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے بنگلہ دیش کی ملبوسات کی صنعت، جو اب تک کم قیمت فاسٹ فیشن پر انحصار کرتی رہی ہے، مستقبل میں مزید ترقی اور مسابقت کی جانب بڑھ سکتی ہے۔
بنگلہ دیش کی معروف ماڈل اور فیشن انڈسٹری کی نمایاں شخصیت ازرا محمود کا کہنا ہے کہ عام طور پر بین الاقوامی برانڈز بنگلہ دیش میں آنے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھاتے، یہاں تک کہ عالمی فوڈ چینز بھی کم ہی آتی ہیں۔
ان کے مطابق فیشن ایک کاروبار بھی ہے اور اس لحاظ سے ماریا بی جیسے بین الاقوامی برانڈ کا ڈھاکا میں آنا نہایت مثبت قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جتنے زیادہ عالمی برانڈز بنگلہ دیش آئیں گے، اتنا ہی مقامی فیشن انڈسٹری کو فائدہ ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈھاکا فیشن ملبوسات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈھاکا فیشن ملبوسات بنگلہ دیش میں بین الاقوامی ڈھاکا میں ماریا بی
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔