2 قاتل باہم محبت میں گرفتار، آج شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
راجستھان کے ضلع الور میں ایک ایسی محبت کی کہانی شادی پر منتج ہونے جا رہی ہے جو کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں۔ قتل کے 2 مجرم، جو جیل میں ایک دوسرے سے ملے اور محبت میں گرفتار ہوئے، آج شادی کرنے جا رہے ہیں۔
پریا سیٹھ عرف نیہا سیٹھ اور ہنومان پرساد کی ملاقات 6 ماہ قبل اسی جیل میں ہوئی جہاں دونوں اپنی سزائیں کاٹ رہے تھے۔ وقت کے ساتھ یہ ملاقات محبت میں بدل گئی اور اب دونوں شادی کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
راجستھان ہائیکورٹ نے دونوں کو شادی کے لیے 15 دن کی ایمرجنسی پیرول دی ہے۔ یہ شادی آج بارودامیو، ضلع الور میں انجام پائے گی۔
پریا سیٹھ: ڈیٹنگ ایپ سے قتل تکپریا سیٹھ ایک ماڈل رہ چکی ہیں۔ انہیں 2018 میں ایک نوجوان دشینت شرما کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
پریا نے ٹنڈر ایپ کے ذریعے دشینت سے دوستی کی، پھر اسے جے پور کے بجاج نگر کے ایک فلیٹ میں بلایا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اسے اغوا کر کے تاوان وصول کیا جائے تاکہ اس کے عاشق دکشنٹ کامرا کا قرض ادا کیا جا سکے۔
تاوان، قتل اور لاش سوٹ کیس میںپریا نے مقتول کے والد سے 10 لاکھ روپے تاوان مانگا، جن میں سے 3 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ بعد ازاں یہ سوچ کر کہ رہائی کی صورت میں پولیس تک پہنچ ہو سکتی ہے، پریا، دکشنٹ کامرا اور اس کے دوست لکشیہ والیا نے دشینت کو قتل کر دیا۔
لاش کو شناخت سے بچانے کے لیے چہرے پر چاقو کے وار کیے گئے اور لاش کو سوٹ کیس میں بند کر کے عامر کی پہاڑیوں میں پھینک دیا گیا۔
ہنومان پرساد: 5 قتلوں کا مجرمدوسری طرف ہنومان پرساد بھی ایک سنگین جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ اس نے اپنی گرل فرینڈ سنتوش کے کہنے پر اس کے شوہر اور بچوں کو قتل کیا۔
اکتوبر 2017 میں سنتوش نے ہنومان کو اپنے گھر بلایا جہاں اس نے جانور ذبح کرنے والے چاقو سے اس کے شوہر بنواری لال کو قتل کیا۔
بچوں کا قتل، لرزہ خیز واقعہقتل کے وقت سنتوش کے 3 بچے اور ایک بھانجا جاگ گئے اور واردات دیکھ لی۔ گرفتاری کے خوف سے سنتوش نے اپنے بچوں اور بھانجے کو بھی قتل کرنے کا حکم دیا۔
اس رات ایک شخص اور 4 بچوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، جس نے پورے الور کو دہلا کر رکھ دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔