پاک فوج کی جانب سے برف باری کے دوران تیراہ سے عارضی انخلاء کرنے والے شہریوں کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
ملک میں شدید برف باری اور سرد موسم کے باعث پاک فوج کی جانب سے عارضی طور پر انخلا کرنے والے شہریوں کے لیے امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔ پاک فوج برف باری کے دوران تیراہ سے آنے والی سڑکوں سے برف ہٹانے میں مصروف ہے تاکہ مکینوں کو محفوظ اور آسان نقل مکانی کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
برف باری کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال میں پاک فوج مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنا رہی ہے۔ اس دوران پاک فوج نے 20 پھنسے ہوئے شہریوں کو کامیابی سے ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
پاک فوج نے تیراہ ایڈمنسٹریٹو کمپلیکس میں متاثرین کے لیے 200 بستروں پر مشتمل عارضی رہائش کی تیاری مکمل کر لی ہے، جہاں متاثرہ افراد کو خوراک، گرم رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے ٹرانسپورٹ اور نقل مکانی کے انتظامات منظم انداز میں کیے گئے ہیں تاکہ کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کی خصوصی دیکھ بھال کے لیے الگ انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں فوری بحران کی تشخیص اور صورتحال کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
پاک فوج کے یہ اقدامات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست مشکل حالات میں اپنے شہریوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دیتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔